عالمی خبریں

نیپال انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری، بالیندر شاہ اور کے پی شرما اولی کے درمیان سخت مقابلے کا امکان

شاہ نے موسیقی سے ملی مقبولیت کو سیاست میں آزمایا اور 2022 میں کٹھمنڈو کے پہلے آزاد میئر کے طور پر منتخب ہوئے۔ بطور میئر انہوں نے ٹیکس چوری، ٹریفک جام اور کچرے کے انتظام جیسے مسائل پر سخت فیصلے لیے۔

<div class="paragraphs"><p>کے پی&nbsp; شرما اولی / تصویر سوشل میڈیا</p></div>

کے پی  شرما اولی / تصویر سوشل میڈیا

 

نیپال میں جمعرات (5 مارچ) کو نئی حکومت کا انتخاب کرنے کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ ستمبر میں ’جین زی‘ کی جانب سے وسیع پیمانے پر کئے گئے احتجاج کے بعد یہ پہلا الیکشن ہے۔ جہاں کچھ نئی پارٹیاں نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرکے نیپال کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گی، وہیں کچھ پرانی پارٹیاں اس الیکشن میں اپنی حیثیت کے لیے لڑائی جاری رکھیں گی۔ ان میں سے کئی پارٹیاں تو اپنا قومی درجہ تک بچانے کی جدوجہد کررہی ہوں گی۔

Published: undefined

نیپال کے عام انتخابات میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کئی بڑے رہنما تال ٹھونک رہے ہیں۔ حالانکہ مختلف سروے ایجنسیوں کا خیال ہے کہ اصل مقابلہ بلیندر شاہ کے درمیان ہوگا، جو’جین زی‘ کے احتجاج کے بعد ابھرے تھے اور کے پی شرما اولی، جنہیں ان مظاہروں کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ 35 سالہ بالیندر شاہ (بالین) نیپال میں ماؤ نواز خانہ جنگی کے دوران 1990 میں کھٹمنڈو میں پیدا ہوئے۔ وہ پیشے سے سول انجینئر ہیں اور سیاست میں آنے سے پہلے انڈر گراؤنڈ ہپ ہاپ آرٹسٹ (ریپر) تھے۔ ان کے گانوں میں اکثر بدعنوانی اور عدم مساوات پر کڑی تنقید کی جاتی تھی، جس کی وجہ سے وہ نوجوانوں میں کافی مقبول ہوئے۔

Published: undefined

شاہ نے موسیقی سے ملی مقبولیت کو سیاست میں استعمال کیا اور 2022 میں کھٹمنڈو کے پہلے آزاد میئر کے طور پر منتخب ہوئے۔ بطور میئر انہوں نے ٹیکس چوری، ٹریفک جام اور کچرے کے انتظام جیسے مسائل پر سخت فیصلے لیے اور ایک واضح اصلاح کار کے طور پر شہرت حاصل کی۔ ستمبر 2025 کے نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کرنے کے بعد وہ دسمبر 2025 میں راشٹریہ سواتنتر پارٹی میں شامل ہو گئے۔ بلیندر شاہ اب نیپال میں سیاسی تبدیلی اور گڈ گورننس کے ایک نمایاں نوجوان چہرے کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ جھاپا-5 حلقہ سے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو براہ راست چیلنج کر رہے ہیں۔

Published: undefined

وہیں 74سالہ کے پی شرما اولی، جو چار بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں، کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو ایم ایل) کے رہنما ہیں۔ اولی نیپال کے سب سے زیادہ تجربہ کار اور سیاسی طور پر پولرائز کرنے والے رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ وہ نوعمری میں ہی انڈرگراؤنڈ کمیونسٹ سرگرمیوں میں شامل ہو گئے تھے۔ انہیں 1973 میں بادشاہت کے خلاف مہم چلانے پر گرفتار کیا گیا اور 14 سال جیل میں گزارے جن میں سے 4 قید تنہائی میں تھے۔

Published: undefined

تقریباً 6 دہائیوں پر محیط سیاسی کیریئر میں اولی 4 مرتبہ نیپال کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کے ناقدین ان پر آمرانہ اور اختلاف رائے کے روادار ہونے کا الزام لگاتے ہیں، جب کہ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط اور قوم پرست رہنما مانتے ہیں جنہوں نے ہندوستان اور چین کے ساتھ تعلقات کو کامیابی سے سنبھالا ہے۔ ان پر ستمبر 2025 کے احتجاج کے دوران 77 افراد کی ہلاکت کا الزام تھا، حالانکہ وہ اس سے انکار کرتے ہیں اور تشدد کے لیے دراندازوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ نوجوانوں کی اس تحریک نے انہیں اقتدار سے بے دخل کیا، لیکن وہ اپنی پارٹی کے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے اور ایک بار پھر وزیر اعظم کے عہدے پر واپس آنے کی امید کر رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined