
تصویر اے آئی
ایران کی جانب سے ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں ایک جزیرے پر واقع مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی کارروائی کے جواب میں جوابی حملہ بھی کیا گیا، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کے باعث خلیجی خطے میں سلامتی کی صورتحال بدستور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب یورپی یونین نے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی عارضی مفاہمت کے بعد جامع اور بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے کہا کہ ایران کے جوہری ذخائر اور دیگر حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت ناگزیر ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاجا کالاس نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دوبارہ جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایک نازک مگر اہم سفارتی موقع موجود ہے جس کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین ایک مستقل اور پُرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں اس کے پاس اقتصادی اثر و رسوخ، جوہری امور کی مہارت اور خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات موجود ہیں۔
ادھر امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی فوج نے تقریباً ستر تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ فراہم کیا۔ حکام کے مطابق یہ آبی گزرگاہ اب بھی خطرات سے دوچار ہے اور جہازوں کی آمد و رفت معمول سے کم ہے۔
Published: undefined
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ سے قبل روزانہ ایک سو سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، جبکہ اب بحری نقل و حمل میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی تیل رسد کا تقریباً بیس فیصد حصہ اسی اہم آبی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے خطے میں جاری کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی باعثِ تشویش سمجھی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined