
تصویر اے آئی
مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو اپنی بحریہ کے ذریعے سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس اقدام کو عالمی توانائی سپلائی کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکریٹری انا کیلی نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے امریکی بحریہ کے ذریعے سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فوج نے بارودی سرنگیں بچھانے والی بیس سے زیادہ غیر فعال کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے اور اس طرح کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہ سکتی ہیں۔
Published: undefined
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اس اہم سمندری راستے میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے مختلف طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک نہایت اہم آبی گذرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی تجارت ہوتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ جیسے ہی حالات بحری سکیورٹی کارروائیوں کے لیے موزوں ہوں گے، امریکی بحریہ ممکنہ طور پر ایک بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ مل کر جہازوں کو اس آبی راستے سے محفوظ طریقے سے گزارنے کا عمل شروع کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اس طرح کی ہنگامی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر کئی مہینوں سے غور کر رہا تھا اور اس سلسلے میں متعدد ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔
Published: undefined
ادھر خلیجی خطے میں جہازوں پر حملوں اور بڑھتی ہوئی عسکری جھڑپوں کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق دبئی سے تقریباً پچاس سمندری میل شمال مغرب میں ایک مال بردار جہاز پر نامعلوم میزائل سے حملہ کیا گیا جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو اسے خالی کرنا پڑا۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز مرکز نے بتایا کہ جہاز کے تمام عملہ محفوظ ہے جبکہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے اس علاقے میں موجود تمام جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
Published: undefined
اس صورتحال نے ہندوستان کے لیے بھی تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی بڑی ضرورت اسی سمندری راستے کے ذریعے آنے والی سپلائی سے پوری کرتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے گفتگو کرتے ہوئے خطے میں بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے بڑھتے تناؤ، عام شہریوں کی ہلاکت اور شہری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور توانائی کی بلا رکاوٹ ترسیل ہندوستان کی اولین ترجیح ہے، اس لیے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined