عالمی خبریں

امریکہ: ایچ-1بی اور ایل-1 ویزا کی توسیع ہوگی مشکل، ہندوستانی پیشہ ور افراد کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ

امریکی حکومت ایچ-1بی اور ایل-1 سمیت کئی ورک ویزا کی توسیع کے قواعد سخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت سابقہ منظوری کو لازمی بنیاد نہ ماننے سے ہندوستانی پیشہ ور افراد کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں

<div class="paragraphs"><p>ایچ ون بی ویزا / علامتی تصویر</p></div>

ایچ ون بی ویزا / علامتی تصویر

 

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایچ-1بی اور ایل-1 سمیت مختلف ورک ویزا کی توسیع کے ضوابط سخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ تبدیلی کے تحت امریکی امیگریشن افسران ویزا کی توسیع کی درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت سابقہ منظوری کو لازمی بنیاد بنانے کے پابند نہیں ہوں گے۔ اس اقدام سے امریکہ میں کام کرنے والے ہندوستانی پیشہ ور افراد کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکی محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) نے اس سلسلے میں ایک تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد سابقہ امیگریشن فیصلوں کو لازمی بنیاد بنانے کا موجودہ ضابطہ ختم کرنا ہے۔ یہ تجویز 14 اکتوبر کو فیڈرل رجسٹر میں شائع کی گئی تھی، جب کہ اس پر عوامی آرا اور اعتراضات درج کرانے کی آخری تاریخ 13 نومبر مقرر کی گئی ہے۔ دلچسپی رکھنے والے افراد اور ادارے صرف سرکاری پورٹل ریگولیشنز ڈاٹ جی او وی کے ذریعے اپنی رائے پیش کر سکتے ہیں۔

موجودہ ضابطے کے مطابق اگر کسی ملازم اور اس کے آجر کو پہلے ویزا کی منظوری مل چکی ہے اور حالات میں کوئی بڑی تبدیلی، اہم غلطی یا نئی منفی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں تو امیگریشن افسر کو عموماً سابقہ فیصلے کا احترام کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، مجوزہ تبدیلی کے بعد ہر توسیعی درخواست کی نئے سرے سے جانچ کی جا سکے گی، خواہ متعلقہ ملازم کو پہلے بھی ویزا کی منظوری مل چکی ہو۔ یہ تبدیلی صرف ایچ-1بی اور ایل-1 ویزا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ او-1، ٹی این، ای اور پی زمرے کے ویزا پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

امریکی شہریت و امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2024 میں ایچ-1بی ویزا کی تقریباً 3.99 لاکھ درخواستیں منظور کی گئیں، جن میں 71 فیصد مستفیدین ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی عرصے میں مسلسل ملازمت کے زمرے میں منظور ہونے والی تقریباً 2.58 لاکھ درخواستوں میں سے 2.03 لاکھ، یعنی تقریباً 79 فیصد ہندوستانی پیشہ ور افراد کی تھیں۔ اس زمرے میں ویزا کی توسیع کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔

ڈی ایچ ایس کے مطابق، یو ایس سی آئی ایس کو موصول ہونے والی مجموعی آئی-129 درخواستوں میں ایچ-1بی کی تعداد 75 فیصد سے زیادہ ہے۔ مجوزہ تبدیلی سے ہر سال تقریباً 2.08 لاکھ درخواستیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ محکمہ کا اندازہ ہے کہ اضافی دستاویزات طلب کرنے والے نوٹس (آر ایف ای) کی شرح میں تقریباً تین فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 6 ہزار اضافی نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں۔

محکمہ کے مطابق، اضافی معلومات طلب کیے جانے کی صورت میں درخواستوں کی کارروائی میں اوسطاً 64 دن مزید لگ سکتے ہیں۔ اس تبدیلی سے درخواست گزاروں اور کمپنیوں پر سالانہ تقریباً 1.34 لاکھ ڈالر کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی کا موقف ہے کہ موجودہ نظام میں امیگریشن افسران کو سابقہ فیصلے سے مختلف فیصلہ کرنے کی وجوہات ثابت کرنا پڑتی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت افسران ہر درخواست کا اس کے حقائق اور حالات کی بنیاد پر آزادانہ جائزہ لے سکیں گے۔

محکمہ نے یہ بھی بتایا کہ مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران ایچ-1بی ویزا کی توسیع سے متعلق جن کام کی جگہوں کا معائنہ کیا گیا، ان میں تقریباً 22 فیصد مقامات پر ضابطوں کی خلاف ورزی اور دھوکہ دہی کے معاملات سامنے آئے۔ مالی سال 2018 سے 2020 کے دوران یہ شرح تقریباً 17 فیصد تھی۔

ڈی ایچ ایس نے واضح کیا ہے کہ افسران سابقہ ویزا منظوریوں کو نظرانداز نہیں کریں گے، تاہم انہیں نئے فیصلے کے لیے سابقہ منظوری کو بنیاد بنانا لازمی نہیں ہوگا۔ محکمہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس تبدیلی سے ان ملازمین اور کمپنیوں کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی سے متعلق منصوبہ بندی متاثر ہو سکتی ہے، جنہوں نے سابقہ ویزا منظوری کی بنیاد پر امریکہ میں قیام اور ملازمت کے فیصلے کیے ہیں۔

واضح رہے کہ سابقہ ویزا منظوری کو ترجیح دینے کا اصول 2004 میں نافذ کیا گیا تھا۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 2017 میں اسے ختم کر دیا گیا، تاہم 2021 میں دوبارہ بحال کیا گیا اور 2024 میں باضابطہ طور پر امیگریشن ضوابط کا حصہ بنا دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔