عالمی خبریں

یو این اجلاس: صدر پزشکیان کی کمیونیکیشن ٹیم کو امریکی ویزا سے انکار، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ نے صدر مسعود پزشکیان کی کمیونیکیشن ٹیم کے بعض ارکان کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پزشکیان بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان / آئی اے این ایس</p></div>

ایرانی صدر مسعود پزشکیان / آئی اے این ایس

 
IANS

تہران: ایرانی میڈیا نے پیر کو دعویٰ کیا کہ امریکہ نے صدر مسعود پزشکیان کے اعلیٰ سطحی وفد میں شامل ان کی کمیونیکیشن ٹیم کے بعض ارکان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پزشکیان اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرنے والے ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، امریکی حکومت کا یہ اقدام ایران کے لیے غیر متوقع اور مخالفانہ ہے۔ ارنا نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پزشکیان کے اعلیٰ سطحی وفد کے بعض ارکان کو ویزا دینے سے انکار کیا ہے، جن میں صدر کی کمیونیکیشن ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے بھی ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان کے حوالے سے اس فیصلے کی اطلاع دی ہے۔

اس سے قبل امریکہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ضروری عملے سمیت ایران کے بنیادی وفد کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت سے امریکہ اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ایرانی وفد کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دے گا۔ تاہم وفد کی نقل و حرکت اور دیگر سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایرانی وفد کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر، ایران کے اقوام متحدہ مشن، سفیر کی رہائش گاہ اور جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ تک محدود رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ وفد کو لگژری اشیا اور بعض دیگر اشیا کی خریداری کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

پزشکیان بدھ کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور منگل کو نیویارک کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ایرانی وفد کا حصہ ہیں۔ وہ اتوار کی شام ایران سے روانہ ہوئے اور راستے میں قطر میں مختصر قیام کریں گے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں پزشکیان کا نیویارک کا دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازعہ کے دوران ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی شرائط سے آگاہ کرنے کی بات کہی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر جوابی ناکہ بندی کی کارروائی کی اطلاع دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اعلیٰ سطحی عام بحث 22 سے 28 ستمبر تک جاری رہے گی، جس میں رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام عالمی مسائل اور اپنے ممالک کی ترجیحات پر خطاب کریں گے۔ 2026 کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کے تنازع کے علاوہ یوکرین جنگ، عالمی معیشت اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی اہم معاملات عالمی ایجنڈے پر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔