
فوٹو @usairforce
امریکہ کے جنوبی کیلیفورنیا کے موجاوے ریگستان میں واقع فضائیہ کے ایک اڈے پر بی-52 بمبار اسٹریٹو فورٹریس بمبار طیارہ پرواز کرنے کے کچھ ہی دیر بعد حادثے کا شکار ہو گیا۔ افسران نے اس حادثہ سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ طیارے نے ایئر بیس سے پرواز کی تھی لیکن ٹیک آف کے فوری بعد وہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ نیوز ایجنسی اے پی نے فضائیہ کے حوالے سے بتایا کہ کیلیفورنیا کے ایک فوجی اڈے پر حادثے کا شکار شکار ہوئے بی-52 بمبار طیارے میں سوار 8 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔
Published: undefined
امریکی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ طیارہ صبح تقریباً 11:20 بجے ایڈورڈس فضائیہ کے اڈے پر حادثے کا شکار ہو گیا جس کے بعد ایمرجنسی راحت اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئیں۔ لاس اینجلس کے شمال میں واقع ایڈورڈس ایئر فورس بیس نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ اس حادثے میں زندہ بچنا ممکن نہیں تھا۔ افسران کے مطابق حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
عملے کے ارکان کے بارے میں فی الحال کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں حالانکہ فـضائی مناظر میں طیارے کا ملبہ تقریباً پوری طرح تباہ دکھائی دے رہا ہے۔ طیارے کے حادثے کا شکار ہونے کے بعد فضائیہ کے اڈے کے ایک رن وے کے قریب ریگستانی علاقے میں آگ لگنے سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دیئے اور آس پاس کئی ایمرجنسی گاڑیاں تعینات تھیں۔ فوج نے یہ نہیں بتایا ہے کہ بمبار طیارہ ہتھیاروں سے لیس تھا یا نہیں۔
Published: undefined
افسران نے ایک بیان میں کہا کہ ایمرجنسی راحت رسانی کے مقصد سے پوری توجہ مرکوز رکھنے کے لیے ایئر بیس پر غیر تجارتی مہمانوں کے انٹری پاس عارضی طور سے معطل کر دیئے گئے ہیں۔ ایڈورڈس نے ایک بیان میں کہا کہ ایئر فورس بیس امریکی فضائیہ کے طیارہ انسپکشن اور ترقیاتی پروگراموں کا اہم مرکز ہے۔ یہ لاس اینجلس سے تقریباً 161 کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔
Published: undefined
اس بیس کا آپریشن کرنے والا 412 واں ٹیسٹ ونگ فضائیہ کے سبھی طیاروں، ہتھیار نظاموں، سافٹ ویئر اور دیگر آلات کی خرید سے پہلے نیز ان کی پوری معیاد کے دوران انسپکشن کرتا ہے۔ یہی وہ فوجی اڈہ ہے جہاں 1947 میں فضائیہ کے ٹیسٹنگ پائلٹ چک یگر نے میک 1.05 کی رفتار حاصل کر کے آواز کی اسپیڈ کو پہلی بار پار کیا تھا۔ طیارہ سیکورٹی ماہر فیج گجیٹی کا ماننا ہے کہ طیارے کا پرواز کے فوری بعد بغیر زیادہ اونچائی حاصل کئے حادثے کا شکار ہونا کسی پرواز کنٹرولنگ سسٹم میں خرابی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ ابھی کسی نتیجے پر پہنچنا جلد بازی ہوگی۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ رکھ رکھاؤ کے بعد کنٹرولنگ سسٹم میں کوئی گڑبڑی رہ گئی ہو، انجن میں بڑی خرابی ہوئی ہو یا انسپکشن کے دوران کئے جا رہے کام کے دوران کوئی آلہ ناکام ہوا ہو۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined