عالمی خبریں

ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات عرب ممالک سے وصول کریں گے ٹرمپ! وائٹ ہاؤس کے اشارے پر نئی بحث شروع

پینٹاگون نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 6 دنوں میں 11.3 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ تاہم اس رقم میں جنگی نقصان اور معاوضے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>

امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس

 

 ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہ گئی ہے۔ اس کے معاشی اثرات بھی نظر آنے لگے ہیں۔ اس جنگ پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کے درمیان وائٹ ہاؤس کے تازہ ترین اشاروں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب اس جنگ کا بوجھ اکیلے کندھوں پر اٹھانے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ اس دوران وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ عرب ممالک سے جنگ کے اخراجات میں حصہ داری کی توقع کی جا سکتی ہے۔اس سے اب یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا ایران کے خلاف جنگ کا بل اب عرب ممالک کو چکانا پڑے گا؟

Published: undefined

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جاری امریکہ اسرائیل جنگ کے اخراجات کو اٹھانے میں مدد مانگنے میں’ کافی دلچسپی‘ لیں گے۔ وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران لیویٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کریں گی لیکن یہ ایک ایسا خیال ہے جس پر ٹرمپ غور کر رہے ہیں اور مستقبل میں وہ اس پر بات کر سکتے ہیں۔ رواں ماہ کی شروعات میں پینٹاگون کے حکام نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 6 دنوں میں 11.3 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ یہ معلومات ’ژنہوا‘ نیوز ایجنسی نے دی ہے۔

Published: undefined

حالانکہ اس رقم میں جنگ کے نقصانات اور معاوضے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ پینٹاگون کو جنگ کے پہلے 3 ہفتوں میں 1.4 ارب سے 2.9 ارب ڈالر کے درمیان لاگت آئے گی۔ یہ تخمینہ پینٹاگون کے سابق بجٹ اہلکار ایلین میک کُسکر نے لگایا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کانگریس سے کم از کم 200 ارب ڈالر کے اضافی فوجی بجٹ کی درخواست کی ہے۔ اس رقم کا استعمال ایران میں جاری فوجی آپریشن اور پینٹاگون کے ہتھیاروں کے ذخیرے کو پھر سے بھرنے کے لیے کیا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined