
تصویر بشکریہ آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اٹارنی جنرل پیم بونڈی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق یہ فیصلہ ان کی کارکردگی پر بڑھتی ہوئی ناراضگی کے باعث کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ مرحوم سرمایہ کار اور جنسی جرائم میں ملوث شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلوں کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں ناکام رہی تھیں۔
Published: undefined
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر بھی ناخوش تھے کہ بونڈی ان کے ناقدین اور سیاسی مخالفین کے خلاف قانونی کارروائی کو تیزی سے آگے نہیں بڑھا رہی تھیں۔ اپنے دورِ ملازمت میں بونڈی کو ٹرمپ کے ایجنڈے کی ایک مضبوط حامی سمجھا جاتا تھا، تاہم محکمۂ انصاف کی خودمختاری کے حوالے سے ان کے طرزِ عمل پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے اور ان پر وائٹ ہاؤس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے الزامات بھی لگے۔
Published: undefined
ان کے دور میں سب سے زیادہ تنازع جیفری ایپسٹین سے جڑے مقدمات پر ہوا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنسی اسمگلنگ سے متعلق اہم دستاویزات کو جاری کرنے میں بے ضابطگیاں کیں یا بعض معلومات کو چھپانے کی کوشش کی۔ اس معاملے نے نہ صرف بونڈی بلکہ خود ٹرمپ کے لیے بھی سیاسی مشکلات پیدا کیں، کیونکہ ایپسٹین کے ساتھ ان کے ماضی کے تعلقات پر دوبارہ سوالات اٹھنے لگے۔ تاہم ٹرمپ اس سے پہلے واضح کر چکے ہیں کہ ان کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات بہت پہلے ختم ہو چکے تھے۔
Published: undefined
بونڈی کی برطرفی کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ محکمۂ انصاف کی حکمت عملی میں تبدیلی آئے گی اور ٹرمپ کے مخالفین کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نئے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اور سینئر عہدیدار کرسٹی نوئم کو بھی 5 مارچ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جو انتظامیہ کے اندر بڑھتی ہوئی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
Published: undefined
مزید برآں، ناقدین نے بونڈی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے ان کیریئر پراسیکیوٹرز کو ہٹا دیا جو ٹرمپ کے خلاف تحقیقات میں شامل تھے، جس سے محکمۂ انصاف کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہوئے۔ دوسری جانب، بونڈی نے ایپسٹین فائلز کو عوام کے سامنے لانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاملے میں سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ شفافیت دکھائی ہے، اگرچہ محدود وقت میں بڑی تعداد میں دستاویزات کا جائزہ لینا ایک بڑا چیلنج تھا۔
Published: undefined
ایپسٹین کیس کا تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب دستاویزات جاری ہونے کے باوجود کئی اہم معلومات چھپی رہنے اور بعض متاثرین کی شناخت ظاہر ہونے پر شدید تنقید سامنے آئی۔ بعد ازاں پارلیمانی کمیٹی نے بونڈی کو طلب کرتے ہوئے 14 اپریل کو گواہی دینے کے لیے سمن جاری کیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined