
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)
مریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بڑا اور متنازع دعویٰ کرتے ہوئے اسے امریکہ کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں آبنائے ہرمز کا نقشہ بھی شیئر کیا، جس پر اسے امریکی علاقہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے اس دعوے پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ کے بیان کو ان کی ’غلط فہمی‘ قرار دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس طرح امریکی صدر نے خلیج فارس کا نام درست لکھنا سیکھ لیا ہے، اسی طرح ایران بھی جلد انہیں آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کی غلط فہمی دور کرنے میں مدد دے گا۔
غریب آبادی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیا گیا آبنائے ہرمز کا نقشہ بھی منسلک کیا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے نیویارک میں ایک ریلی کے دوران کہا تھا کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دیں گے۔ ایران نے اس وقت بھی ان کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز، بے تکا اور متنازع قرار دیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے پارلیمانی امور کے ڈائریکٹر جنرل حسین نوش آبادی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس طرح کے بیانات ٹرمپ اپنے ملک کے عوام کو خوش کرنے کے لیے دیتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی تنازع یا کشیدگی کا عالمی توانائی منڈیوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
دریں اثنا، ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ کسی بھی مذاکرات یا بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان نہ تو کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی کوئی بات چیت طے ہے۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور معمول کے مطابق کام کر رہی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اس حوالے سے مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔ امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے میں موجود تمام سمندری بارودی سرنگیں یا تو ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔ ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے مقرر 60 روزہ مدت کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔