عالمی خبریں

مغربی ایشیا کی کوریج پر پھر ناراض ہوئے ٹرمپ، امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کو کہہ دیا ’پاگل‘

ٹرمپ نے پہلے بھی امریکی میڈیا پر کئی بار حملہ بولا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی انہوں نے نیو یارک ٹائمس اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹنگ پر تنقید کی تھی اور ’غلط‘ رپورٹنگ کے لیے معافی مانگنے کے لیے کہا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مغربی ایشیا جنگ کی کوریج کو لے کر امریکی میڈیا پر تلخ حملہ بولا ہے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ کئی بڑے میڈیا ادارے ان کی حکومت اور امریکہ کے خلاف جانبدارانہ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پوری طرح خود سپردگی بھی کردے، تب بھی میڈیا اسے ایران کی جیت بتانے کی کوشش کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ تبصرہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں دی نیویارک ٹائمس، دا وال اسٹریٹ جنرل اور سی این این جیسے میڈیا اداروں کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ میڈیا ادارے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر ’پوری طرح راستہ بھٹک چکے ہیں‘ اور ’پاگل ہوگئے ہیں‘۔

Published: undefined

اپنی طویل پوسٹ میں ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ایران خود سپردگی کردے، اس کی فوج ہتھیار ڈال دے اور قیادت ہار مان لے، تب بھی میڈیا یہ دکھائے گا کہ ایران نے امریکہ پر بڑی جیت حاصل کی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے یہ صاف نہیں کیا کہ خاص رپورٹ یا خبر سے وہ ناراض تھے لیکن مانا جارہا ہے کہ مغربی ایشیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جنگ جیسے حالات پر میڈیا کوریج کو لے کر انہوں نے اس طرح کے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

Published: undefined

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب ٹرمپ نے اپنے ہی امریکی میڈیا پر حملہ بولا ہو۔ گزشتہ ماہ بھی انہوں نے نیو یارک ٹائمس اور وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹنگ کی تنقید کی تھی۔ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمس پر ایران کے حوالے سے ’فرضی خبریں‘ پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ کہ اخبار کو امریکہ اور ان کے خلاف غلط رپورٹنگ کے لیے معافی مانگنی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا کی رپورٹوں کے باوجود ایران ’فوجی اور دیگر سطحوں پر پوری طرح تباہ‘ ہو چکا ہے۔ وہیں وال اسٹریٹ جنرل کے ادارتی بورڈ نے ٹرمپ کے ایران جنگ میں جلد جیت کا اعلان کرنے والے بیان کو ’ وقت سے پہلے‘ بتایا تھا جس پر ٹرمپ نے سخت رد عمل کا ٓاظہار کیا تھا۔

Published: undefined

اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی فوج نے اتوار کو آبنائے ہرمز کے پاس ایرانی میزائل لانچ سائٹ اور کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’دفاعی کارروائی‘ کرنے کی بات کہی تھی۔ دعویٰ کیا کہ اس سے امریکہ اور’ دفاعی کارروائی‘ کرنے کی بات کہی تھی۔ دوسری طرف ایران نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ کی ’بے ایمانی اوراعتماد شکنی‘ بے نقاب ہوتی ہے۔ حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے لیکن حالیہ واقعات نے مغربی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined