
آئی اے این ایس
قاہرہ: مصر کی وزارتِ سیاحت و نوادرات نے اعلان کیا ہے کہ تاریخی شہر الاقصر کے مغربی کنارے پر جاری کھدائی کے دوران فرعونوں کے عہد کا ایک قدیم مقبرہ دریافت ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کا تعلق قدیم مصر کی نئی سلطنت کے دور سے ہے، جو تقریباً 1550 قبل مسیح سے 1069 قبل مسیح تک قائم رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت قدیم مصری تہذیب، مذہبی روایات اور تدفینی طریقوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ دریافت الاقصر کے مغربی قبرستان میں کام کرنے والے نیدرلینڈ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے ایک تحقیقی مشن نے کی۔ مقبرے کی دیواروں پر موجود کتبوں اور نقوش سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا مالک ’پاسیر‘ نامی شخصیت تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فنِ تعمیر، دیواروں کی آرائش اور کندہ نقوش سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ یہ مقبرہ نئی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔
مصر کی اعلیٰ کونسل برائے نوادرات کے سیکریٹری جنرل ہشام اللیثی نے بتایا کہ تحقیقی ٹیم اب اس مقام کا تفصیلی سائنسی جائزہ، دستاویزی اندراج اور آثار کا باریک بینی سے مطالعہ کرے گی تاکہ یہاں مدفون افراد کی شناخت، ان کے سماجی مقام اور تاریخی پس منظر کو واضح کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس تحقیق سے قدیم مصر کی تاریخ کے کئی نئے پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔
اعلیٰ کونسل کے شعبۂ مصری نوادرات کے سربراہ محمد عبدالبادی نے بتایا کہ مقبرے کی ساخت نئی سلطنت کے دور کے نجی مقبروں کی روایتی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں ایک کشادہ بیرونی صحن، چٹان کو تراش کر بنایا گیا الٹے ’ٹی‘ کی شکل کا عبادت گاہ نما حصہ اور کئی زیرِ زمین تدفینی کمرے شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بیرونی صحن اچھی حالت میں محفوظ ہے۔ یہاں کچی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ایک تدفینی چبوترہ موجود ہے، جس کے وسط میں یادگاری سنگِ کتبہ نصب کرنے کے لیے مخصوص جگہ بنائی گئی تھی۔ صحن سے مرکزی داخلی راستے تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں اور ان کے دونوں جانب ڈھلوانی راستے بھی بنائے گئے تھے، جو اس دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مقبرے کی دیواروں پر خوبصورت رنگین نقاشی اور کندہ تحریریں موجود ہیں، اگرچہ ان کا کچھ حصہ ابھی گرد و غبار اور مٹی کی باریک تہہ میں ڈھکا ہوا ہے۔ جن حصوں کی صفائی مکمل ہو چکی ہے وہاں واضح تصویری مناظر سامنے آئے ہیں۔ ان میں ’پاسیر‘ کو مختلف معبودوں میں نذرانے پیش کرتے ہوئے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ روایتی نذر و نیاز کی میز کے سامنے کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مناظر اس دور کے مذہبی عقائد، خاندانی زندگی اور تدفینی رسومات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
وزارتِ سیاحت و نوادرات نے یاد دلایا کہ رواں برس اپریل میں بھی ہسپانوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے صوبہ منیا میں رومی اور یونانی عہد سے تعلق رکھنے والا ایک نادر مقبرہ دریافت کیا تھا۔ وہاں سے متعدد حنوط شدہ لاشیں، لکڑی کے تابوت، سونے اور تانبے سے بنی مصنوعی زبانیں اور سونے کی پرت سے مزین آثار برآمد ہوئے تھے، جنہوں نے اس زمانے کی تدفینی روایات کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی تھیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔