بغداد: عراق میں تین دنوں تک ہوئے پرتشدد مظاہرے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 38 ہوگئی جبکہ 1648 سے زیادہ دیگر زخمی ہوگئے۔
عراقی انڈیپنڈنٹ ہائی کمیشن فار ہیومن رائٹس (آئی ایچ سی ایچ آر) کے ایک رکن علی البیاتی نے جمعہ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ بغداد اور کچھ صوبوں میں پرتشدد مظاہروں میں سلامتی فورسوں کے دو جوانوں سمیت 38 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 360 سلامتی دستوں کے اہلکار سمیت 1648 لوگ زخمی ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر علاج کے بعد اسپتال سے جاچکے ہیں۔ واضح رہے کہ مظاہرے میں مارے گئے لوگوں کی تعداد جمعرات تک 26 تھی جبکہ زخمیوں کی تعداد 1506 تھی۔
Published: 04 Oct 2019, 9:55 PM IST
آئی ایچ سی ایچ آر ایک آزاد کمیشن ہے جو عراقی پارلیمنٹ سے منسلک ہے۔ اس کی بنیاد عراقی حکومت کے ذریعہ بین الاقوامی پیمانوں کے مطابق عراق کے سبھی لوگوںکے حقوق کو بڑھاوا دینے اور ان کی سلامتی کے لئے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی تھی۔
Published: 04 Oct 2019, 9:55 PM IST
بیروزگاری، سرکاری بدعنوانی اور بنیادی سہولتوں میں کمی کے سلسلے میں عراق کی راجدھانی بغداد اور کئی صوبوں سمیت پورے ملک میں لوگوں کا مظاہرہ جاری ہے اور اسی دوران بغداد میں پو لس کے ساتھ جھڑپ اور تشددپسندانہ واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ دیگر عراقی صوبوں میں بھی مظاہرہ جاری ہے اور اس دوران مشتعل مظاہرین نے کئی صوبائی سرکاری عمارتوں اور اہم سیاسی پارٹیوں کے دفتروں پر حملہ کیا اور ان میں آگ لگادی۔ بغداد میں صبح پانچ بجے سے کرفیو کے نفاذ کے باوجود جمعرات کو دن میں ہلکا پھلکا مظاہرہ جاری رہا۔
Published: 04 Oct 2019, 9:55 PM IST
عراقی وزیر دفاع نجاح الشمی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی مسلح افواج کے لئے ملک کی اقتدار کی حفاظت کرنے اور سبھی غیرملکی سفارت خانوں اور عراق میں سرگرم سیاسی مشنوں کی حفاظت کے لئے الرٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
Published: 04 Oct 2019, 9:55 PM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 04 Oct 2019, 9:55 PM IST