عالمی خبریں

یہ جیت بنگلہ دیش، جمہوریت اور عوامی امیدوں کی ہے: طارق رحمٰن

بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخاب میں بڑی کامیابی کے بعد بی این پی سربراہ طارق رحمٰن نے اسے جمہوریت اور عوام کی امیدوں کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے اتحاد، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کا وعدہ کیا

<div class="paragraphs"><p>طارق رحمن، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/bdbnp78">@bdbnp78</a></p></div>

طارق رحمن، تصویر ’ایکس‘ @bdbnp78

 

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخاب میں شاندار کامیابی کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمٰن نے پہلی بار میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ملک، جمہوریت اور عوامی امیدوں کی جیت قرار دیا۔

اپنے بنگلہ خطاب میں طارق رحمٰن نے کہا کہ یہ کامیابی صرف کسی جماعت کی نہیں بلکہ پورے بنگلہ دیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے جمہوریت کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی رائے اور حق حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئین اور جمہوری نظریات کو نظر انداز کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق نئی حکومت ملک بھر میں قانون کی مضبوط حکمرانی اور مؤثر سلامتی نظام کو یقینی بنائے گی تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔

طارق رحمٰن نے کہا کہ براہ راست ووٹنگ کے ذریعے عوام کے سامنے جوابدہ پارلیمان اور حکومت دوبارہ قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوئی بھی طاقت دوبارہ ملک میں آمریت مسلط نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کو کسی بھی صورت کمزور یا محتاج ریاست نہیں بننے دیا جائے گا اور اس کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ بی این پی پر عوام کے اعتماد سے واضح ہے کہ شہری پارٹی کی قیادت پر مکمل بھروسا رکھتے ہیں۔ اسی اعتماد کو بنیاد بنا کر حکومت تمام بنگلہ دیشیوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد میں سب کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔

طارق رحمٰن نے غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو میں اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک آج بھی انہیں شدت سے یاد کرتا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ قرار دیا۔ واضح رہے کہ 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں 297 نشستوں کے نتائج سامنے آئے، جن میں بی این پی نے 209 نشستیں حاصل کیں جبکہ اتحادیوں سمیت اسے 212 نشستوں کی حمایت ملی، یوں پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کر رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined