عالمی خبریں

جنگ سے دنیا پریشان مگر امریکہ مالا مال! تیل فروخت کر کے توڑ دیئے کمائی کے تمام ریکارڈ، بھر گیا خزانہ

پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کے زبردست عالمی مطالبات نے امریکہ کی دیگر صنعتی مصنوعات کو بھی بڑا سہارا دیا ہے۔ صنعتی سپلائی اور اشیا کی برآمدات بھی بڑھ کر 89 ارب ڈالر کی نئی ریکارڈ سطح پر آگئی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>

امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)

 

دنیا بھر کی نظریں اس وقت مغربی ایشیا کے حالات پر مرکوز ہیں لیکن اس جغرافیائی سیاسی بحران اور جنگ کے درمیان امریکی معیشت نے منافع کمانے کے معاملے میں بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ اپریل میں امریکہ کی مجموعی برآمدات (ایکسپورٹ) اب تک کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے نئی چوٹی پر پہنچ گئی ہیں۔ اس چھپر پھاڑ کمائی کے پیچھے خام تیل اور بھاری مشینری سب سے بڑی طاقت بنے ہیں۔ بین الاقوامی بازار میں خام  تیل کی آسمان چھوتی قیمتوں نے امریکہ کا خزانہ بھر دیا ہے جس سے اس کا تجارتی خسارہ بھی کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔

Published: undefined

امریکی محکمہ کامرس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکہ کی مجموعی برآمدات 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 327.1 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ برآمدات میں ہوئے اس زبردست اضافے کی وجہ سے امریکی تجارتی خسارہ 1.2 فیصد کم ہو کر 55.9 ارب ڈالر پر آ گیا ہے۔ تجارتی خسارہ کم ہونے کا مطلب ہے کہ ملک سے پیسہ باہر کم جا رہا ہے اور آمدنی زیادہ ہو رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ کے اعداد و شمار میں کافی بہتری آئی ہے۔ پہلے مارچ کا تجارتی خسارہ 60.3 ارب ڈالر بتایا گیا تھا جسے اب ترمیم کر کے 56.6 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صرف اشیا کی برآمدات میں 4.1 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے یہ تخمینہ 221.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

Published: undefined

امریکہ کی اس ریکارڈ توڑ کمائی کے پیچھے سب سے بڑا عنصر پٹرولیم مصنوعات ہیں۔ فروری کے آخر میں شروع ہوئی مغربی ایشیا کی جنگ نے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی پوری سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ اسی وجہ سے خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکہ دنیا کے ان چنندہ ممالک میں شامل ہے جو تیل کے خالص برآمد کنندہ ہیں، یعنی وہ اپنی ضرورت سے زیادہ تیل کی پیداوار اور برآمد کرتا ہے۔ اسی کا براہ راست فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے اپریل میں 36.7 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات برآمد کیں۔ یہ تخمینہ مارچ کے 27.6 ارب ڈالر کے مقابلے کافی زیادہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ منافع صرف تیل کی بلند ترین قیمتوں کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ امریکہ نے بھاری مقدار میں تیل کی سپلائی میں بھی اضافہ کر دیا۔

Published: undefined

پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کے زبردست عالمی مطالبات نے امریکہ کی دیگر صنعتی مصنوعات کو بھی بڑا سہارا دیا ہے۔ صنعتی سپلائی اور اشیا کی برآمدات بھی بڑھ کر 89 ارب ڈالر کی نئی ریکارڈ سطح پر آگئی ہیں۔ امریکی پٹرولیم تجارتی سرپلس پچھلے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 17.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو مارچ میں محض 9.4 ارب ڈالر تھا۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر برآمدات کی یہی مضبوط صورتحال آئندہ کچھ عرصے تک جاری رہی تو سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکہ کی اقتصادی شرح ترقی کو نمایاں رفتار ملے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined