
ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے صرف تیل بازار یا مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہی زلزلہ نہیں آیا بلکہ دبئی جیسے عالمی بزنس ہب کی بنیاد تک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو گزشتہ کچھ برسوں میں دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس اور کاروباری مرکز مانا جانے لگا تھا، وہاں اب شپنگ سیکٹر سے متعلق کئی غیر ملکی پیشہ ور افراد دوسرے ممالک منتقل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ’مڈل ایسٹ آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں کام کر رہے کئی مغربی ماہرین اب یونان کی راجدھانی ایتھنز اورقبرص جیسے ممالک کو متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ آبنائے ہرمز میں خطرہ، جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ اور جنگ کے طویل ہونے کا خوف بتایا جا رہا ہے۔
Published: undefined
دراصل فروری میں امریکہ-اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بعد سے آبنائے ہرمز تقریباً جام جیسی حالت میں پہنچ گئی ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں اپنی اپنی طرح سے سمندری کنٹرول نافذ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 2000 جہاز خلیجی خطے میں پھنس گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے سبب عالمی شپنگ کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے اور کئی جہاز کمپنیاں ریکارڈ منافع کما رہی ہیں لیکن یو اے ای کی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
Published: undefined
دبئی کی جبل علی بندرگاہ کو دنیا کے سب سے بڑے ٹرانس شپمنٹ ہب میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ایک جہاز سے سامان دوسرے جہاز میں منتقل ہو کر دنیا کے مختلف حصوں میں جاتا ہے۔ تاہم جنگ اور ناکہ بندیوں کی وجہ سے یہاں کاروبار کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ یہ بندرگاہ پورے خلیج میں 60 فیصد سے زیادہ کارگو ہینڈل کرتی ہے۔ یو اے ای کا سب سے بڑا ایکسپورٹ یعنی تیل بھی بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ ہرمز پر ایران کی گرفت لگاتار مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک شپ مالک نے کہا کہ مسئلہ صرف کاروبار کا نہیں ہے بلکہ بھروسے کا بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بڑھتی ہے تو کیا دبئی سے خاندان محفوظ طریقے سے لندن یا پیرس بھیج پانا آسان ہوگا؟ یہی فکر لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔
Published: undefined
جنگ کے اثرات اب دبئی کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آنے والے مہینوں میں دبئی کی ہزاروں پراپرٹی ایجنسیاں بند ہو سکتی ہیں۔ کئی چھوٹی کمپنیاں جو تیزی سے بڑھتے پراپرٹی مارکیٹ اور سٹہ بازی والی سرمایہ کاری پر منحصر تھیں، اب انہیں خود کو باقی رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
Published: undefined
کووڈ-19 کے بعد دبئی نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، کرپٹو کاروباریوں اور امیر پیشہ ور افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ ٹیکس میں رعایت، آسان ضابطے اور تیز رفتار ترقی نے اسے عالمی مالیاتی مرکز بنا دیا تھا لیکن اب ایران جنگ نے پہلی بار اس ماڈل کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ حالانکہ ماہرین کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس اب بھی مضبوط معاشی وسائل ہیں اور دبئی مکمل طور پر کمزور نہیں ہوگا۔ لیکن یہ صاف ہوگیا ہے کہ ہرمز کے بحران اور علاقائی جنگ نے خلیج کی سب سے چمکدار معیشت کی رفتار پر بریک لگا دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined