عالمی خبریں

آبنائے ہرمز پر اقوام متحدہ میں تعطل، روس کے ویٹو کے بعد امریکہ کے اگلے قدم پر سوالات

بحرین کی قرارداد پر روس کے ویٹو کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ عالمی دباؤ، تیل کی قیمتیں اور قانونی پیچیدگیاں امریکہ کے ممکنہ فوجی قدم کو مزید حساس بنا رہی ہیں

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)</p></div>

آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)

 

نئی دہلی: آبنائے ہرمز کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی بحرین کی قرارداد روس کے ویٹو کے بعد تعطل کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور امریکہ کے آئندہ لائحہ عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ روس نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ امریکی مداخلت کی حمایت نہیں کرے گا۔

Published: undefined

بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ممالک کو ضروری دفاعی اقدامات کی اجازت دی جائے۔ تاہم روس کے ویٹو نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر امریکہ کے لیے کسی بڑے فوجی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنا مشکل ہوگا۔ روس اور چین پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی یکطرفہ کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کریں گے۔ اس کے باوجود امریکہ ماضی میں ’آزادیٔ نقل و حرکت‘ کے نام پر بین الاقوامی پانیوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھتا آیا ہے۔

Published: undefined

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اب اپنے اتحادی ممالک کو قائل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی اقدامات کریں، تاہم فرانس اور برطانیہ جیسے اہم اتحادی پہلے ہی اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کا اشارہ دے چکے ہیں۔ فرانس کا موقف ہے کہ یہ تنازع بنیادی طور پر امریکہ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اس لیے اسے خود ہی اس کا سامنا کرنا چاہیے۔

ادھر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے، جس کے باعث امریکہ پر بھی فوری حل تلاش کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی قیادت کے لیے پسپائی اختیار کرنا سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اندرون ملک بھی ایران کے خلاف کارروائی کے قانونی پہلوؤں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

امریکی کانگریس میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل مناسب منظوری نہیں لی گئی، جو کہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر امریکہ آبنائے ہرمز میں فوجی موجودگی بڑھاتا ہے تو اس سے نہ صرف عالمی قوانین پر سوال اٹھیں گے بلکہ اقوام متحدہ کے کردار اور اثر پذیری پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined