
آئی اے این ایس
مسقط: عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی پرچم بردار جہاز ’وراٹ 1‘ میں فنی خرابی کے بعد اس پر سوار 14 ہندوستانی عملے کے ارکان کی مدد کے لیے تلاش اور بچاؤ کی کارروائی جاری ہے۔ عمان میں ہندوستانی سفارت خانے نے اتوار کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
Published: undefined
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’وراٹ 1‘ نامی مکینیکل سیلنگ ویسل عمان کے ساحل کے قریب مشکل کا شکار ہوا ہے۔ جہاز پر 14 ہندوستانی عملے کے ارکان موجود ہیں اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے عمانی حکام کے ساتھ مل کر سرچ اور ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔
بیان کے مطابق امدادی کارروائی میں علاقے میں موجود دیگر بحری جہاز بھی حصہ لے رہے ہیں۔ سفارت خانہ عمانی حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جہاز اور اس پر موجود عملے کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خلیجی خطے میں بحری سلامتی کے مسائل پر بین الاقوامی توجہ مرکوز ہے۔ گزشتہ دنوں ہندوستان نے خلیج فارس کے علاقے میں ہندوستانی ملاحوں کو لے جانے والے تجارتی جہازوں سے متعلق بعض واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
Published: undefined
جمعہ کو وزارت خارجہ نے امریکہ کے قائم مقام سفیر جیسن میکس کو طلب کر کے خلیجی خطے میں ہندوستانی ملاحوں کو لے جانے والے تجارتی جہازوں پر امریکی بحریہ کے مبینہ حملوں کے خلاف احتجاج درج کرایا تھا۔ وزارت کے مطابق ایسے اقدامات بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اور خطے میں سلامتی کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ حالیہ واقعات میں تین ہندوستانی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس پر نئی دہلی نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ہندوستانی حکام نے امریکی سفارت کار سے مطالبہ کیا تھا کہ شہری جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
Published: undefined
اس سے قبل عمان میں ہندوستانی سفارت خانے نے اطلاع دی تھی کہ ’ایم ٹی جل ویر‘ پر سوار تمام 20 ہندوستانی عملے کے ارکان کو کامیابی کے ساتھ بچا لیا گیا تھا۔ تازہ واقعے میں بھی متعلقہ ادارے ’وراٹ 1‘ پر موجود عملے کی حفاظت کے لیے سرگرم ہیں جبکہ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined