عالمی خبریں

فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان پر ڈرون سے حملہ کیا

پاکستانی فوج نے کونار یونیورسٹی کیمپس پر ڈرون حملہ کیا، جس سے دونوں ممالک کی جانب سے توپ خانے اور ٹینکوں کے حملے کیے گئے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر جنگ چھڑ گئی ہے۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق اسپن بولدک چمن بارڈر پر دونوں ممالک کی فوجیں توپ خانے اور ٹینکوں کے حملوں کا تبادلہ کر رہی ہیں۔ پیر یعنی27 اپریل کی صبح تقریباً 11 بجے، پاکستانی فوج نے کونار یونیورسٹی کیمپس پر ڈرون حملہ کیا، جس میں ایک پروفیسر اور دو طالب علم شدید زخمی ہوئے۔ جواب میں افغانستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔

Published: undefined

پاکستان نے اتوار  یعنی26 اپریل کو افغان فوج کی انگور اڈہ سرحدی چوکی کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا۔ جس کے بعد افغان فوج نے اسپن بولدک بارڈر کراس کرکے پاکستانی پوسٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کی جس کے نتیجے میں چار پاکستانی فوجی ہلاک۔ ایک کو افغانستان سے فرار ہونے سے قبل یرغمال بنالیا۔ آدھی رات کے اس آپریشن میں افغان فوج نے پاکستانی فوجیوں سے اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔

Published: undefined

افغانستان کے شہر کونار میں سید جمال الدین افغان یونیورسٹی پر پاکستانی فوج کے حملے کے بعد ایک بچے کی جان کی بازی ہارنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے مطابق جوابی کارروائی ڈیورنڈ لائن کے قریب اسپن بولدک کے علاقے میں کی گئی۔

Published: undefined

پاکستان اور افغانستان نے عید کے پیش نظر 18 سے 23 مارچ تک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاہم افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستانی فوج جنگ بندی کے باوجود گولہ باری کر رہی ہے۔ افغان مسلح افواج کے سربراہ فصیح الدین فطرت نے بارہا الزام لگایا ہے کہ پاکستانی فوج ڈیورنڈ لائن کے ساتھ جنگ ​​بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

Published: undefined

جب افغانستان نے شہریوں پر حملوں پر بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کو گھیر لیا، تو پاکستان نے کہا کہ اس نے فوجی ڈھانچے اور "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے" کو نشانہ بنایا ہے، شہری اہداف کو نہیں۔ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستانی حملے میں 408 سے زائد افراد ہلاک اور 260 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر مریض منشیات کی لت سے نجات کے مرکز میں زیر علاج تھے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined