
ایچ ون بی ویزا / علامتی تصویر
واشنگٹن: امریکہ میں ایچ ون بی ویزا پروگرام کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے۔ ریپبلکن رکنِ کانگریس گریگ اسٹیوبی نے اس قانون کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ویزا نظام امریکی شہریوں کے بجائے غیر ملکی کارکنوں کو ترجیح دیتا ہے، جس سے مقامی ملازمین کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مجوزہ قانون کا نام “اینڈنگ ایکسپلوئٹیٹو امپورٹڈ لیبر ایگزمپشنز ایکٹ” رکھا گیا ہے، جسے مختصراً “ایکسائل ایکٹ” کہا جا رہا ہے۔ اس بل کے ذریعے امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
Published: undefined
ایچ ون بی ویزا کے تحت امریکی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، طب اور مالیات جیسے خصوصی شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دینے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ پروگرام گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں ہنر مند پیشہ ور افراد کی آمد کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، خاص طور پر ہندوستان اور چین جیسے ممالک کے شہریوں کے لیے۔
Published: undefined
گریگ اسٹیوبی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی شہریوں کی خوشحالی کے بجائے غیر ملکی کارکنوں کو فوقیت دینا قومی مفادات کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایچ ون بی پروگرام کے باعث امریکی نوجوانوں اور کارکنوں کو روزگار کے مواقع سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ کمپنیوں اور بیرونی مسابقت کرنے والوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔
Published: undefined
ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والوں میں اسی فیصد سے زائد افراد ہندوستانی یا چینی شہری ہوتے ہیں اور اکثر کم عمر ملازمین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق سال 2027 سے ہر مالی سال میں ایچ ون بی ویزا کی تعداد صفر کر دی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ پروگرام عملاً ختم ہو جائے گا۔
Published: undefined
ایچ ون بی ویزا اسکیم کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا تھا کہ خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی ماہرین کو امریکی معیشت میں خدمات انجام دینے کا موقع دیا جائے۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ پروگرام روزگار، اجرت اور امیگریشن پالیسی سے متعلق سیاسی مباحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ نئے بل کی پیشی کے بعد اس معاملے پر ایک بار پھر بحث میں شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined