
آئی اے این ایس
کھٹمنڈو: نیپال میں تباہ کن سیلاب کے ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد حکومت اور مقامی انتظامیہ نے معمولاتِ زندگی بحال کرنے اور تباہ شدہ سرکاری و نجی املاک کی تعمیرِ نو پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ اس قدرتی آفت میں اب تک 1280 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
بیدور میونسپلٹی کے میئر راجن شریشٹھ نے آئی اے این ایس سے گفتگو میں کہا کہ نیپال کے لوگوں نے اپنی زندگی میں کسی قدرتی آفت سے ایسی وسیع پیمانے پر تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان کے مطابق سیلاب سے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور بیدور میونسپلٹی بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میونسپلٹی کے 13 وارڈوں میں سے 10 مکمل طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں امداد اور بچاؤ کا کام اب بھی جاری ہے، جبکہ متاثرین کو عارضی پناہ فراہم کرنے کے لیے 17 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ان کیمپوں میں اس وقت 3,000 سے زیادہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔
میئر شریشٹھ نے کہا کہ ابتدائی امدادی کارروائیوں کے بعد اب میونسپلٹی کی توجہ سیلاب سے تباہ ہونے والی املاک کی بحالی اور تعمیرِ نو کے منصوبے پر ہے۔ انہوں نے قدرتی آفت کے فوراً بعد مدد پہنچانے پر ہندوستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
راجن شریشٹھ نے کہا کہ ہندوستان ابتدا ہی سے نیپال کا ایک سچا دوست رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ نیپالی عوام اور ان کے مفادات کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کے مطابق 2015 کے زلزلے کی طرح اس بار بھی ہندوستان حکومت نے امداد، بچاؤ اور بحالی کے کاموں کے لیے مالی مدد فراہم کی ہے۔
دریں اثنا، نیپال کی فوج دیوی گھاٹ کو گلچی کے راستے کھٹمنڈو سے دوبارہ جوڑنے کے لیے 57.5 میٹر طویل اور 70 ٹن وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے لوہے کے پل کی تعمیر کر رہی ہے۔ اچانک آنے والے سیلاب میں سابقہ پل بہہ گیا تھا، جس کے نتیجے میں سڑک رابطہ منقطع ہو گیا اور دیوی گھاٹ سمیت آس پاس کے علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔
نیپال فوج کی پل سازی یونٹ کے پل کمانڈر میجر چرنجیوی چولاگائیں نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ پل کی تنصیب کے لیے رولر لے آؤٹ سسٹم تیار کیا جا رہا ہے اور اگلی صبح سے پل نصب کرنے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق پل کی تعمیر تقریباً پانچ دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب کھٹمنڈو میں واقع تریبھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال کی مردہ خانے کے باہر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں اب بھی جمع ہیں۔ رسوا ضلع میں سامان پہنچانے گئے ایک لاپتہ شخص کے رشتہ دار نے بتایا کہ واپسی کے دوران گاڑی خراب ہو گئی تھی اور اسے تریشولی کے قریب ایک گیراج میں مرمت کے لیے کھڑا کیا گیا تھا۔ اسی دوران اچانک شدید سیلاب آ گیا اور اس شخص کا تب سے کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔