
نیپال میں سیلاب کے بعد تباہی کا منظر، تصویر سوشل میڈیا
نیپال کے رسووا علاقہ واقع بھوٹے کوشی ندی میں شدید سیلاب سے آئی تباہی نے کئی زندگیاں ختم کر دی ہیں۔ اس تباہناک ’فلیش فلڈ‘ کے سبب ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 270 پہنچ گئی ہے۔ اعلیٰ افسران کے مطابق تقریباً 1500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن کی تلاش زور و شور سے جاری ہے۔ لاپتہ افراد میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد کم از کم 800 بتائی جا رہی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ سینکڑوں غیر ملکی سیاحوں سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 178 سیاح ہندوستان کے ہیں۔
نیپال سیاحتی بورڈ نے جمعرات کی دوپہر 12 بجے تک حاصل اعداد و شمار کے مطابق جو جانکاری شیئر کی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ نیپال کے 127 مقامی سیاحوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ رسووا ضلع میں اچانک آئے اس سیلاب میں امریکہ کے بھی 65 سیاح لاپتہ ہیں۔ دیگر ممالک کے سیاحوں کی بات کی جائے تو یوکرین کے 53، ملیشیا کے 51، آسٹریلیا کے 35 اور برطانیہ کے 33 سیاحوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ کناڈا کے 25 سیاح بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو رابطے میں نہیں ہیں۔
نیپال سیاحتی بورڈ نے کئی ایسے ممالک کے نام بتائے ہیں، جہاں سے آئے سیلانیوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ دی گئی جانکاری کے مطابق سنگاپور کے 9 سیاح، روس و جرمنی کے 8-8 سیاح، لاتویا و جنوبی افریقہ کے 6-6 سیاح، نیوزی لینڈ و جاپان کے 5-5 سیاح، فرانس کے 4 سیاح اور اسپین کے 3 سیاح بھی رابطے میں نہیں ہیں۔ اٹلی، آئرلینڈ، قزاقستان، نیدرلینڈ اور پرتگال کے 2-2 سیاح بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بیلاروس، بلغاریہ، فن لینڈ، ہنگری، اسرائیل، لتھوانیا، فلپائن، سربیا، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے 1-1 سیاح سے بھی رابطے کی مستقل کوشش کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ اور دفاعی ٹیمیں لگاتار حالات پر نظر بنائے ہوئی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی بھی پھنسے ہوئے سیاح یا عام شہری کو مشکل حالات سے جلد از جلد باہر نکالا جائے۔
اس درمیان سیلاب کی تباہی کے کئی خوفناک مناظر سامنے آئے ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق کئی علاقوں کا ٹرانسپورٹیشن اور رابطہ ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 35 پُل اور 45 سسپنسن پُل بہہ گئے ہیں، جس کی وجہ سے کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس حادثہ میں 13 ہائیڈروپاور پروجیکٹس کو بھی نقصان پہنچا ہے اور کئی گاڑیاں تیز بہاؤ کی زد میں آئی ہیں۔ نیپال فوج نے متاثرہ علاقوں سے تقریباً 250 لوگوں کو بہ حفاظت نکالا بھی ہے، لیکن سینکڑوں اب بھی لاپتہ ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔