عالمی خبریں

نیپال میں سیلاب کی تباہی: ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے متجاوز، تقریباً 4000 افراد اب بھی لاپتہ

نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1003 ہوگئی، جبکہ 3916 افراد لاپتہ ہیں۔ سرچ، ریسکیو اور راحت کاری کے لیے 21 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر ویڈیو گریب / اے آئی سے بہتر شدہ</p></div>

تصویر ویڈیو گریب / اے آئی سے بہتر شدہ

 

کھٹمنڈو: نیپال میں گزشتہ ہفتہ آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ دریاؤں کے کنارے سے لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق اب تک 1003 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

این ڈی آر آر ایم اے نے منگل کو جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا کہ سب سے زیادہ 321 لاشیں جنوبی چِتوان ضلع سے ملی ہیں، جبکہ مشرقی نول پرسی سے 216 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق 3916 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ لاپتہ افراد میں 583 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ نیپالی فوج، مسلح پولیس فورس اور نیپال پولیس کے اہلکاروں سمیت دیگر سرکاری ملازمین بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق بھوٹے کوشی اور ترشولی دریاؤں کے کنارے واقع مختلف پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے 639 افراد بھی لاپتہ ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تلاش، بچاؤ اور راحت کاری کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ اس قدرتی آفت میں اب تک 279 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ این ڈی آر آر ایم اے نے بتایا کہ تلاش، بچاؤ اور راحت کاری کے لیے مجموعی طور پر 21,314 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں نیپالی فوج کے 9199، نیپال پولیس کے 7912 اور مسلح پولیس فورس کے 4203 اہلکار شامل ہیں۔

حکام کے مطابق نامعلوم لاشوں کو شناخت اور مناسب انتظام کے لیے 21 مختلف مقامات پر رکھا گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 11884 افراد کو محفوظ نکالا جا چکا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور سکیورٹی ایجنسیاں پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹروں سمیت مختلف وسائل استعمال کر رہی ہیں۔

دریں اثنا، نیپالی فوج نے بتایا کہ وہ غیر ملکی ماہرین کے تعاون سے مختلف پن بجلی منصوبوں میں تلاش اور بچاؤ کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ چِلمے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، لانگ ٹانگ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، اپر ترشولی-1 اور ترشولی-3 اے سمیت متعدد مقامات پر مشترکہ ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔

نیپالی فوج کے مطابق سیلاب کے فوراً بعد شروع کیے گئے بچاؤ آپریشن کے دوران پن بجلی منصوبوں کے علاقوں سے 279 افراد کو زندہ نکالا گیا۔ ان میں رسواگڑھی سے دو، اپر ترشولی-1 سے 33، اپر ترشولی-3 اے سے 221، اپر ترشولی-3 بی سے دو، میلونگ سے نو، نوواکوت سولر پاور پروجیکٹ سے چار، ترشولی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے تین اور دیوگھاٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے پانچ افراد شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔