عالمی خبریں

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی: ایران کے میزائل و ڈرون حملے، اسرائیل اور امریکہ کی بمباری، خطے میں ہلاکتیں اور شدید سفارتی بحران

ایران نے خلیجی خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے جبکہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران اور لبنان میں بمباری کی۔ کئی ممالک میں ہلاکتیں ہوئیں اور امریکی سفارت خانے بند کر دیے گئے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری جنگ بیتی رات مزید شدت اختیار کر گئی اور خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف میزائل، ڈرون اور فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں جانی نقصان اور شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور اس سے وابستہ گروہوں نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک بڑی مہم شروع کی۔ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے ایک ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون میں سے بیشتر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تاہم بعض حملوں میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

Published: undefined

متحدہ عرب امارات میں تین افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ کویت میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ بحرین میں بھی ایک شخص کے مارے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ ان حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ

ادھر کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اتوار کے روز پورٹ شعیبہ میں قائم امریکی کمانڈ سینٹر پر ایک ڈرون حملہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ بعد میں امریکی حکام نے ان میں سے چار اہلکاروں کی شناخت بھی ظاہر کر دی۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایک دن قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

Published: undefined

سعودی عرب اور دبئی میں بھی کشیدگی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی کشیدگی دیکھی گئی۔ وہاں امریکی سفارت خانے کے قریب دو ڈرون گرنے کی اطلاع ملی جس سے معمولی آگ لگ گئی۔ اسی طرح دبئی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ایک ڈرون گرنے کے باعث پارکنگ کے علاقے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم حکام کے مطابق تمام سفارتی عملہ محفوظ رہا۔

لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے

دوسری جانب اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے کیے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 50 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سات بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے ہیں۔

Published: undefined

ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں

ایران کے اندر بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے بعد ایران نے بھرپور جوابی کارروائی شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں پورے خطے میں کشیدگی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

امریکی سفارت خانے بند، عملے کا انخلا شروع

سکیورٹی صورتحال کے بگڑنے کے بعد امریکہ نے کئی ممالک میں اپنے سفارتی اقدامات محدود کر دیے ہیں۔ سعودی عرب، کویت اور لبنان میں امریکی سفارت خانوں نے عوامی خدمات عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کویت، بحرین، عراق، قطر، اردن اور متحدہ عرب امارات سے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو نکالنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فوجی اور چارٹر پروازوں کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔

Published: undefined

حالیہ واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تنازع اب محدود فوجی جھڑپ نہیں رہا بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ایک بڑا بحران بن چکا ہے۔ ایران کے خلیجی خطے میں حملے، اسرائیل کی لبنان میں فضائی کارروائیاں اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو آنے والے دنوں میں یہ جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined