
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ / Getty Images
مغربی ایشیا میں جاری خوفناک تشدد کے درمیان اتوار کے روز امریکہ میں اس وقت کچھ دیر کے لیے افراتفری مچ گئی جب ایک شہرے ھطیارے نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے طیارے ایئر فورس ون کے قریب ممنوعہ علاقے میں پرواز کرتے ہوئے پابندی کی خلاف ورزی کی۔ اس صورتحال سے مچی کھلبلی کے دوران فوری طور پر ایف۔ 16 جنگی طیاروں کو سیکورٹی کے لیے روانہ کیا گیا اور پلیئرس کا استعمال کیا گیا۔
Published: undefined
’نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو فلوریڈا کے پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا۔ اس واقعے کی وجہ سے حکام نے ہوائی اڈے پر فلائٹ آپریشن روک دیا اور شمالی امریکی ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ کے طیارے کو فوری طور پر روانہ کرکے شہری طیارے کو روک لیا گیا۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ اس سے ایئر فورس ون یا صدر ٹرمپ کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
Published: undefined
’ این او آرڈی‘ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق ایف۔ 16 جنگی طیاروں نے 29 مارچ 2026 کو دوپہر تقریباً 1:15 بجے پام بیچ کے اوپر طیارے کو روکا۔ شہری طیارے نے اس علاقے میں نافذ پرواز کی عارضی پابندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس کے بعد شہری طیارے کو فوری طور پر ممنوعہ علاقے سے بحفاظت باہر لے جایا گیا۔ اس دوران جنگی طیارے کے پائلٹ نے شہری طیارے کو اشارے دینے کے لیے پلیئرس کا استعمال کیا۔
Published: undefined
وائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے واقعے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک شہری طیارے کا پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر کنٹرول ٹاور سے کچھ دیر کے لیے رابطہ منقطع ہو گیا لیکن بالآخر رابطہ دوبارہ قائم ہو گیا اور طیارے کی لینڈنگ کو روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون نے دخل اندازی نہیں ہوئی اور صدر کے طیارے ایئر فورس ون کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined