
آئی اے این ایس
نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے شدید متاثر ہو رہے ہیں، جس کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ایران اس اہم سمندری گزرگاہ پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری جانب امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے جہازوں پر دباؤ ڈال رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
Published: undefined
اسی تناظر میں فرانس کے صدر امینوئل میکروں اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم عالمی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مجوزہ اجلاس میں تقریباً 40 ممالک کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، جہاں اس حساس مسئلے کا مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق یہ میٹنگ ورچوئل اور براہ راست شرکت کے امتزاج سے منعقد ہو سکتی ہے، جبکہ مرکزی میزبانی پیرس میں ہوگی۔
Published: undefined
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں نہ صرف ایران سے جنگ بندی کی حمایت پر زور دیا جائے گا بلکہ آبنائے سے گزرنے والے بحری راستوں کی بحالی اور ان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات پر بھی غور ہوگا۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی رہنما ایک ایسے بین الاقوامی مشن کی تشکیل پر بات کریں گے، جس کا مقصد اس اہم راستے کو محفوظ اور فعال بنانا ہوگا۔
Published: undefined
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مجوزہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد کسی بھی کشیدگی کو بڑھانا نہیں بلکہ حالات کو معمول پر لانا ہے۔ تاہم، اگر ضرورت پیش آئی تو مشترکہ فوجی تعاون کے ذریعے بحری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں بین الاقوامی بحری تنظیم کے کردار کو مضبوط بنانے اور جہازوں کے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے جیسے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق کیر اسٹارمر جمعہ کی صبح پیرس پہنچیں گے، جہاں وہ ایمانوئل میکروں کے ساتھ اس اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ جرمن حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس مشن میں شمولیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے لیے واضح قانونی بنیاد موجود ہو۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس میں کمرشل جہاز رانی کو بحال کرنے، بارودی سرنگوں کی صفائی کے آپریشنز اور بحری نگرانی جیسے اقدامات پر زور دیا جائے گا، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined