عالمی خبریں

’ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی وضاحت

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔ وہ جلد اسلام آباد جا کر ایران کے جوہری پروگرام پر اہم مذاکرات کی قیادت کریں گے

<div class="paragraphs"><p>امریکی نائب صدر جیڈی وینس / آئی اے این ایس</p></div>

امریکی نائب صدر جیڈی وینس / آئی اے این ایس

 

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی سے متعلق ایک اہم وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے اور اس حوالے سے ایران کی جانب سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ انہوں نے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو یہ لگا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہوگا، حالانکہ امریکی موقف اس کے برعکس تھا۔

Published: undefined

جے ڈی وینس کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ترجیح یہ تھی کہ جنگ بندی کا دائرہ کار ایران اور ان ممالک تک محدود رکھا جائے جو براہ راست اس کشیدگی کا حصہ ہیں، جن میں اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اگرچہ لبنان میں تحمل کا مظاہرہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس بارے میں کوئی واضح یا تفصیلی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

نائب صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل نے محدود سطح پر خود کو روکنے کی پیشکش کی ہے تاکہ جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔ ان کے اس بیان سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

Published: undefined

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بیان دیا تھا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہوگا، جبکہ اسرائیل پہلے ہی اپنے سرکاری بیان میں واضح کر چکا تھا کہ دو ہفتوں پر مشتمل اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔ ان متضاد بیانات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا، جس کے بعد امریکی نائب صدر کی وضاحت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب جے ڈی وینس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہنگری کے دورے کے بعد اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد جائیں گے، جہاں وہ ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی قیادت کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد ایک نازک جنگ بندی قائم ہوئی ہے اور امریکہ اسے مستقل امن میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined