عالمی خبریں

اسرائیل کا پارس گیس فیلڈ پر نشانہ، ایران کا قطر کی ایل این جی تنصیبات پر حملہ؛ جنگ میں شدت

اسرائیل نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر بڑا حملہ کیا، جواب میں ایران نے قطر کی ایل این جی سہولیات کو نشانہ بنایا۔ جنگ انیسویں دن میں داخل ہو گئی اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے عالمی تشویش بڑھ گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ / آئی اے این ایس</p></div>

ایران-اسرائیل جنگ / آئی اے این ایس

 
Shadati

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان جاری جنگ انیسویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جہاں اب لڑائی کا مرکز توانائی کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں اسرائیل نے ایران کی جنوبی پارس گیس فیلڈ پر بڑا حملہ کیا، جسے دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ دیگر اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

Published: undefined

اس حملے کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خلیجی خطے میں کارروائیاں تیز کر دیں اور قطر کی راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قائم ایل این جی سہولیات پر میزائل حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

Published: undefined

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بصورت دیگر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ کا مقصد ایران کی بحری قوت، جوہری تنصیبات اور دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں میں حملے جاری ہیں، جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے زیر اثر علاقوں میں بفر زون قائم کرنے کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

Published: undefined

ایران نے ’ٹرو پرامس فور‘ آپریشن کے تحت اسرائیل پر خرمشہر چار میزائل داغے، جس کے نتیجے میں رمات گان میں دو افراد ہلاک اور متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کی آئل فیلڈز اور آبنائے ہرمز کو بھی ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined