عالمی خبریں

کیا جنگ بندی میں اسرائیل سب سے بڑی رکاوٹ ہے!

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ کو ایک واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا مکمل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائےاور اسرائیل کے ذریعہ جاری جنگ کو روکا جائے، کیونکہ دونوں چیزیں بیک وقت نہیں چل سکتیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں حملے بدستور جاری ہیں، جس نے اس سیزفائر کی سنجیدگی اور مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 182 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دوران ایک ہی دن میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی میں اسرائیل سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

Published: undefined

ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباص اراگچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی شرائط بالکل صاف ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کو ایک واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا مکمل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائےاور اسرائیل کے ذریعہ جاری جنگ کو روکا جائے، کیونکہ دونوں چیزیں بیک وقت نہیں چل سکتیں۔ انہوں نے لبنان میں جاری خونریزی کو عالمی ضمیر کے لیے ایک امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب پوری دنیا امریکہ کے عملی اقدامات کا انتظار کر رہی ہے۔

Published: undefined

ادھر پاکستان نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپیل کی کہ تمام فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور طے شدہ دو ہفتہ جنگ بندی کا احترام کریں تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے اور تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

Published: undefined

گزشتہ ماہ حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے آغاز کے بعد اسرائیل نے لبنان پر اپنے شدید ترین حملے کیے ہیں۔ بدھ کے روز ہونے والے تازہ حملوں میں 250 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، حالانکہ ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے امریکہ–ایران جنگ بندی کے تحت اپنے حملے روک دیے تھے۔ اس پیش رفت نے علاقائی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Published: undefined

ایران کے صدر نے بھی واضح کیا کہ لبنان میں جنگ بندی، امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی ایک بنیادی شرط ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اب تک کا سب سے بڑا مربوط حملہ کرتے ہوئے بیروت، بقاع وادی اور جنوبی لبنان میں محض 10 منٹ کے اندر 100 سے زائد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined