
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس
تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ اس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنا مزید مشکل اور مہنگا ہو جائے گا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ میں بعض عناصر محض 2028 کے سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کر زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق ایران کے خلاف بلا سوچے سمجھے فوجی کارروائیوں کی حمایت سے صرف یہی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے اسے کہیں زیادہ سیاسی اور سفارتی قیمت چکانی پڑے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نجی سطح پر واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم وہ اس وقت کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔
فلپائن کی راجدھانی منیلا میں آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں ’آنکھ کے بدلے سر‘ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران امریکی مفادات کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو اسے مزید بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق امریکہ نے مسلسل تیرہویں رات ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں ایران کو اس کے اقدامات کے لیے جواب دہ بنانے اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روک دیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان میں سے ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جبکہ باقی دو ٹینکر واپس لوٹ گئے۔
آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں ٹینکر امریکی فوج کے ’اشتعال انگیز رویے اور لالچ‘ کے باعث آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی جہاز ایران کی منظوری کے بغیر اس حساس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں تجارتی جہاز رانی اور عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ سفارتی حل کی کوششیں بھی مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔