عالمی خبریں

ایرانی خواتین کئی شعبوں میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں: مجتبیٰ خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی خواتین کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی شعبوں میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔ انہوں نے دشمن قوتوں کو بھی خبردار کیا

<div class="paragraphs"><p>مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>

مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس

 

تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی خواتین کی بہادری اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج خواتین کئی شعبوں میں اپنی ہمت اور جرأت کے باعث مردوں سے بھی آگے نکل رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایرانی عوام کے نام جاری اپنے ایک پیغام میں کہی۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا طویل عرصے سے ایرانی مردوں کی بہادری سے واقف رہی ہے، لیکن اب ایرانی خواتین بھی اپنی حوصلہ مندانہ موجودگی کا احساس کرا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ایرانی شہریوں نے ملک بھر میں چوراہوں اور سڑکوں پر اپنی ذمہ دارانہ موجودگی کے ذریعے اسلام کے لیے لڑنے والوں کا حوصلہ بڑھایا اور دشمنوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا ہے۔ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ 3 کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے اپنی جان قربان کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق، جب ایک مخصوص تنظیمی کوشش کے تحت لوگوں سے اپنی تیاری کی تصدیق کرنے کو کہا گیا تو صرف 100 منٹ میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد نے مقررہ تعداد پوری کردی۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب اس سرزمین کے لوگوں کی بہادری کی شناخت ان کے مردوں سے ہوتی تھی، لیکن آج حالات بدل چکے ہیں اور خواتین اپنی بہادری اور حوصلہ مندانہ موجودگی کے باعث کئی شعبوں میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں ملک کی داخلی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں دشمن مسلسل ایرانی نظام کی سماجی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم آج مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے اختلافات کے باوجود اپنے مؤقف کے دفاع کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں آبنائے ہرمز جیسے اہم علاقے کی حفاظت کا عزم بھی شامل ہے۔ خامنہ ای نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز نے جنوبی ایران کے سمندری علاقے سے ’دشمن قوتوں‘ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ہے اور جلد ہی انہیں بحیرۂ عرب سے بھی دور کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا، ’’ایرانی جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے دیے گئے تکلیف دہ حملوں کے بعد دشمن اب بحیرۂ عرب سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر رہا۔‘‘ ان کے مطابق جب بھی مخالف قوتوں نے ایسا کرنے کا خطرہ مول لیا، انہیں خود نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت تیزی سے قریب آ رہا ہے جب بحیرۂ عرب بھی ان کی موجودگی سے آزاد ہوجائے گا۔

ارنا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ پیغام ایران عراق جنگ سے متعلق ’ہفتۂ دفاعِ مقدس‘ اور 2024 میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت کی برسی کے موقع پر جاری کیا۔ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے سمندری علاقوں میں ایران اور اس کے مخالف فریقوں کے درمیان کشیدگی اور ٹکراؤ جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔