عالمی خبریں

یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ کو جواب، ’طاقت اور دھمکی کی زبان ناقابل قبول، جارحیت کا جواب دیں گے‘

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یو این جی اے میں کہا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے، مگر طاقت اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔ جارحیت کی صورت میں ایران جواب دے گا

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان / Getty Images</p></div>

ایرانی صدر مسعود پزشکیان / Getty Images

 
TIMOTHY A. CLARY

نیویارک: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ ایران مذاکرات، سفارت کاری اور معاہدے کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔

پزشکیان نے ٹرمپ کے ایک روز قبل جنرل اسمبلی میں کیے گئے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو دباؤ اور دھمکی کے ذریعے جھکانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ایسی دھمکیاں ایرانی عوام کو مزید متحد کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایران کے خلاف جارحیت کرے گا تو ایران اسے اپنے اقدام پر پچھتانے پر مجبور کر دے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ٹرمپ اور وہ تمام لوگ جو دباؤ اور دھمکی کے ذریعے ایران کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ایران بات چیت اور سمجھوتے کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت کے استعمال یا دھمکی کی زبان کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اپنے خطاب کے آغاز میں پزشکیان نے ماضی میں امریکی حملے میں جان بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کے حوالے سے ایران کے موقف کو بھی اجاگر کیا۔

ایرانی صدر نے جوہری پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنا چاہتا، تاہم وہ جوہری سائنس اور پُرامن جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران یہ نہیں مانتا کہ جوہری علم صرف دنیا کے چند ممالک تک محدود رہنا چاہیے۔

پزشکیان نے اسرائیل کے جوہری پروگرام پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، لیکن وہاں اس حوالے سے معائنہ نہیں کیا جاتا، جبکہ ایران کو بار بار جانچ اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں لوگوں کی جانیں لی جاتی ہیں، لیکن پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں۔

ایرانی صدر نے سمندری راستوں اور بحری سلامتی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی کو یہ حق نہیں دے گا کہ وہ اسے سمندری راستوں کے استعمال سے روکے، حتیٰ کہ ایران کے اپنے سمندری علاقوں میں بھی۔ ان کے مطابق ساحلی ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچا کر بحری سلامتی یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔

پزشکیان نے اپنے خطاب کے اختتام پر خطے میں اجتماعی سلامتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا کوئی بھی ملک اکیلے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ان کے بقول خطے کے ممالک کو مل کر امن اور سلامتی قائم کرنا ہوگی، ورنہ سب کو عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔