
آئی اے این ایس
تہران: ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کیا ہے، جس میں دشمن ممالک سے وابستہ بعض جہازوں پر پابندی عائد کرنے اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مسودہ اس وقت ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے زیرِ غور ہے۔ مجوزہ قانون میں پہلے پیش کیے گئے مسودے کے مقابلے میں دائرۂ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی مسودے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے دیگر نامزد دشمن ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنے کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ نئے مسودے میں اسرائیلی جہازوں کے علاوہ ان ممالک اور کمپنیوں سے وابستہ فوجی اور شہری کارگو کو بھی اس وقت تک ٹرانزٹ کی اجازت نہ دینے کی بات کہی گئی ہے جب تک مبینہ نقصانات کا ازالہ نہ ہو جائے۔
فارس نیوز کے مطابق اگر کوئی جہاز ان مجوزہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارگو کی مجموعی مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ جن جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، ان سے محفوظ بحری گزرگاہ اور نیویگیشن کی سہولیات فراہم کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سروس فیس وصول کی جائے گی، جو ایرانی کرنسی میں ادا کرنا ہوگی۔
یاد رہے کہ اس قانون کے مسودے کی تیاری کا اعلان پہلی بار مارچ میں ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کیا تھا۔ بعد ازاں اپریل میں ایک ابتدائی مسودہ سامنے آیا، جس میں ایران کے دشمن سمجھے جانے والے ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور بعض حالات میں استثنا کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔ نئے مسودے میں ان پابندیوں کو مزید وسیع کرتے ہوئے کارگو اور متعلقہ کمپنیوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کے انتظام سے متعلق مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے معاہدہ اپنے آخری مرحلے میں ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اور مسقط آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے راستوں کے جغرافیائی نقاط پر پہلے ہی اتفاق کر چکے ہیں، جبکہ مشترکہ اعلامیے کے مسودے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اگر کسی بیرونی فریق نے اس عمل میں مداخلت نہ کی تو مشترکہ بیان جلد جاری کیا جا سکتا ہے۔
تسنیم نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ انتظام کے تحت ایران اپنے زیرِ نگرانی شپنگ لین کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے بحری ٹریفک کی نگرانی کرے گا، جبکہ باہر جانے والے جہازوں پر بھی نظر رکھے گا۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق ایران کو سمندری سلامتی اور محفوظ جہازرانی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری مداخلت کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔