عالمی خبریں

پاکستان میں مقیم ایرانی سفیر نے امریکہ سے امن مذاکرات کی تردید کی، ٹرمپ کے دعوے پر سوال

پاکستان میں ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ سے کوئی امن مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ ٹرمپ نے بات چیت کا دعویٰ کیا تھا۔ اسرائیل نے بھی لاعلمی ظاہر کی، کشیدگی برقرار ہے

<div class="paragraphs"><p>ایران کا اسرائیل پر حملہ / Getty Images</p></div>

ایران کا اسرائیل پر حملہ / Getty Images

 

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بیچ پاکستان میں مقیم ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے امن مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری ہے اور جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ صرف ایسے اقدامات ہیں جو ممکنہ طور پر بات چیت کے لیے فضا ہموار کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ یہ کوششیں جاری تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

رضا امیری مقدم نے موجودہ کشیدگی کو امریکہ کی وعدہ خلافی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ پہلے بھی بات چیت کی جو کوششیں ہوئیں، انہیں واشنگٹن کی جانب سے نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث حالات بگڑتے ہوئے جنگ تک جا پہنچے۔

Published: undefined

دوسری طرف اسرائیل نے بھی کسی قسم کی امن بات چیت کی اطلاعات سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد واضح ہے اور وہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ عمل جاری رہے گا۔

ادھر بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو ایک 15 نکاتی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کا مقصد جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے اس تجویز پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ پاکستانی حکام کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تجویز کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

Published: undefined

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس معاملے میں ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ چاہیں تو پاکستان بات چیت کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ اس پیشکش کو خطے میں امن کے لیے ایک اہم سفارتی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے اور امریکی طیارے تہران کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے مسلسل جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور کئی مراحل میں حملے کیے جا چکے ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے خطے میں فوری امن کی کوئی واضح صورت نظر نہیں آ رہی اور کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined