
فائل تصویر آئی اے این ایس
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آبادمیں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت ہونے جا رہی ہے جہاں ایرانی وفد اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے پہنچ چکا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تقریباً چھ ہفتوں سے جاری جنگ کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔
Published: undefined
ایرانی وفد کی قیادت حمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جو ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں۔ ان کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباص اراغچی سمیت کئی اہم سیاسی، عسکری اور معاشی شخصیات شامل ہیں۔ وفد میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیاں مرکزی بینک کے سربراہ عبدل ناصر ہمتیور دیگر اراکینِ پارلیمان بھی شریک ہیں۔ یہ وسیع البنیاد نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران اس مذاکراتی عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سینئر مشیر اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنربھی موجود ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وفود اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی ممکنہ ملاقات تصور کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
ایرانی وفد نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات اسی صورت میں آگے بڑھیں گے جب امریکہ ان کی مخصوص شرائط تسلیم کرے گا۔ محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے دو اہم اقدامات پر عمل ضروری ہے جس میں پہلا لبنان میں جنگ بندی اور دوسرا ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی۔ ان کے مطابق جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔
Published: undefined
ادھر وائٹ ہاؤس کے حکام بھی ان مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے محتاط نظر آتے ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بعض امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ آبنائے ہرمزکو دوبارہ کھولنا آسان نہیں ہوگا، چاہے مذاکرات میں کچھ مثبت پیش رفت کیوں نہ ہو۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined