فائل تصویر آئی اے این ایس
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہفتے کو پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ جمعہ کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ وٹ کوف اور کشنر ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت کرسکتے ہیں۔
Published: undefined
سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال اس سفر میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، "تاہم، اگر بات چیت میں پیش رفت ہوئی تو جے ڈی وینس اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں گے۔" رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اس ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے۔ دریں اثناء ایرانی وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان، عمان اور روس کے دورے پر جا رہے ہیں۔
Published: undefined
انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ "میں اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر روانہ ہو رہا ہوں۔ ان دوروں کا مقصد دو طرفہ امور پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ ہمارے پڑوسی ہماری ترجیح ہیں۔" رپورٹ کے مطابق اپنے دورہ پاکستان کے دوران عباس عراقچی "ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے خیالات اور شرائط پیش کریں گے۔"
Published: undefined
اس میں مزید کہا گیا کہ "اس دورے کا مقصد دو طرفہ مشاورت، بات چیت اور خطے میں جاری پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔" نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے اطلاع دی ہے کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات میں علاقائی مسائل اور جنگ پر توجہ مرکوز کی جائے گی جب کہ روس میں ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تاہم ایران کی جانب سے اس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ عراقچی اپنے دورہ پاکستان کے دوران امریکی وفد سے ملاقات کریں گے۔
Published: undefined
پاکستان کے ساتھ ساتھ عمان بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث ہے اور عراقچی کا ان ممالک کا دورہ انتہائی اہم ہے۔ لیکن عراقچی جنگ کے درمیان روس کیوں جا رہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ روس امریکہ کے ساتھ تنازع کے دوران ایران کا اہم سفارتی اتحادی رہا ہے۔
Published: undefined
روس نے بارہا ایران کو افزودہ یورینیم ذخیرہ کو دینے کی پیشکش کی ہے۔ روس نے تجویز پیش کی ہے کہ وہ ایران کی افزودہ یورینیم کو اپنی سرزمین پر محفوظ طریقے سے ذخیرہ کر سکتا ہے۔ ایران کو افزودہ یورینیم کے حوالے کرنا جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے اہم مطالبات میں سے ایک ہے۔ تاہم امریکہ اس روسی پیشکش کو قبول نہیں کر رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ نہیں چاہتے کہ ایٹمی طاقت روس خطے میں مزید طاقت حاصل کرے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined