
آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)
ایران نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات، آبنائے ہرمز اور خطے میں غیر ملکی فوجی موجودگی کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ہر حال میں ایران کے پاس ہی رہنا چاہیے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کیے بغیر کسی نئے معاہدے یا مکمل بحالی پر بات نہیں ہو سکتی۔
Published: undefined
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اسنا‘ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ اور رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے ہاتھ سے نکل گیا تو دشمن طاقتیں ایک مرتبہ پھر اسے ایرانی عوام اور خطے کے ممالک کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ خطے کی سلامتی خطے کے اپنے ممالک کو ہی یقینی بنانی چاہیے اور امریکی و یورپی افواج کو یہاں سے نکل جانا چاہیے۔
محسن رضائی نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنے دفاعی اور تزویراتی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس سے قبل بھی وہ سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ایرانی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور ’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔‘
Published: undefined
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے کمرشیل جہازوں کی نقل و حرکت میں مدد کے لیے شروع کیا گیا ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر روک دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مختلف ممالک کی درخواست پر اس آپریشن کو وقتی طور پر بند کیا جا رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
امریکی فیصلے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں موجود کمرشیل جہازوں کو سمندری، تکنیکی اور طبی امداد فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر جہازوں کو ایندھن، طبی امداد، خوراک اور مرمتی سامان جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ خطے میں بحری آمد و رفت کو جاری رکھا جا سکے۔
Published: undefined
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں سے گفتگو میں امریکہ کے رویے کو ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف قرار دیا۔ ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق پیزشکیان نے کہا کہ ایران نے دو مرتبہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کیے، لیکن ہر بار مذاکرات کے ساتھ ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی کی گئیں، جس کے بعد امریکہ پر اعتماد باقی نہیں رہا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ کسی بھی مؤثر مذاکرات کے لیے جنگ کا خاتمہ اور اس بات کی ضمانت ضروری ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف دوبارہ کوئی معاندانہ کارروائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی بھی مذاکرات سے پہلے امریکہ کو اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا