عالمی خبریں

جنیوا پہنچے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، کہا- ’دھمکیوں کے آگے جھکنا معاہدے کا حصہ نہیں‘

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ سے دوسرے مرحلے کی بالواسطہ بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران منصفانہ معاہدہ چاہتا ہے لیکن دھمکیوں کے آگے جھکنا کسی صورت قبول نہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ دوسرے مرحلے کی بالواسطہ بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے کے لیے سنجیدہ تجاویز کے ساتھ آئے ہیں اور دھمکیوں کے آگے جھکنا کسی بھی معاہدے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔

Published: undefined

جنیوا پہنچنے کے بعد عباس عراقچی نے بتایا کہ وہ پیر کو جوہری ماہرین کے ہمراہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے تفصیلی تکنیکی بات چیت کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ منگل کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے قبل عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایران کی سرکاری نشریاتی ایجنسی اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ کے مطابق عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کے ساتھ اتوار کی دیر رات سوئٹزرلینڈ پہنچے۔ منصوبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو ہوگا جس میں عمان ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اس سے قبل پہلا دور گزشتہ ہفتے مسقط میں ہوا تھا جسے دونوں فریقین نے اچھی شروعات قرار دیا تھا۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران سوئس اور عمانی ہم منصبوں کے علاوہ متعدد بین الاقوامی عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔

جون میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ کئی ماہ بعد تہران اور واشنگٹن نے فروری میں دوبارہ بات چیت شروع کی۔

Published: undefined

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو مذاکرات کے لیے نامزد کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے سفارتی حل چاہتے ہیں لیکن تمام امکانات برقرار ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم وہ ساٹھ فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined