عالمی خبریں

امریکہ-ایران کشیدگی کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارت کاری ہے، ہندوستانی عوام کے شکر گزار ہیں: ڈاکٹر محمد فتح علی

ہندوستان میں ایران کے سفیر نے کہا، امریکہ-ایران تنازعہ کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات سے ممکن ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے نقصان پر اظہارِ تعزیت کرنے والے ہندوستانی عوام کا شکریہ بھی ادا کیا

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر محمد فتح علی / آئی اے این ایس</p></div>

ڈاکٹر محمد فتح علی / آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: ہندوستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا پائیدار حل جنگ یا طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہمیشہ سیاسی اور پرامن حل کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے کو ترجیح دے گا۔

آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ ایران نے کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی وہ خطے میں عدم استحکام چاہتا ہے۔ ان کے مطابق تہران ہر اس کوشش کا خیر مقدم کرتا ہے جو تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اور امن دونوں صورت حال کے لیے تیار ہے، تاہم اس کی اولین ترجیح سفارت کاری اور سیاسی حل ہے۔

Published: undefined

ایرانی سفیر نے حالیہ دنوں میں بار بار ٹوٹنے والے جنگ بندی معاہدوں پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کی کئی مرتبہ خلاف ورزی کی گئی، جس کے بعد ایران نے اپنے دفاع کے حق کے تحت اقدامات کیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب بھی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل کا پابند ہے لیکن ملک کی سلامتی اور خودمختاری اس کے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کیے گئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا جس میں ایران سے متعلق تنازعہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فتح علی نے کہا کہ وہ امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے، لیکن ہر وہ قدم مثبت ہے جو کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ہو۔

Published: undefined

کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں کے الزامات کے بارے میں ایرانی سفیر نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے فوجی ماہرین کی ابتدائی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایرانی میزائل ہوائی اڈے کی طرف داغا گیا تھا۔ ان کے مطابق بعض نقصانات ممکنہ طور پر دفاعی نظام کی تکنیکی خرابی کے باعث ہوئے ہوں گے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر فتح علی نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے اور شہری آبادی کو تشدد سے محفوظ رکھا جائے۔

Published: undefined

اس موقع پر ایرانی سفیر نے ہندوستانی عوام کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کے نقصان کے بعد غم کی اس گھڑی میں ہندوستان کے عوام نے بھرپور ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کے بقول ہندوستانیوں نے ایران کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا، جس پر ایرانی عوام ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined