عالمی خبریں

ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ: واشنگٹن میں نئے دور کی بات چیت 20 اپریل سے شروع

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر اہم بات چیت 20 اپریل سے واشنگٹن میں شروع ہوگی۔ نئے امریکی ٹیرف کے بعد مجوزہ ڈیل میں تبدیلیوں پر غور متوقع ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا اگلا مرحلہ 20 اپریل سے واشنگٹن میں شروع ہونے جا رہا ہے، جو تین دن تک جاری رہے گا۔ اس اہم دور میں ہندوستانی وفد شرکت کرے گا جس کی قیادت وزارتِ تجارت کے اضافی سکریٹری درپن جین کریں گے۔ ان کے ساتھ کسٹم محکمہ اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہوں گے۔

Published: undefined

یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ کی تجارتی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی اختیارات کے تحت نافذ کیے گئے وسیع ٹیرف کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد امریکی انتظامیہ نے 24 فروری سے 150 دن کے لیے تمام ممالک کی درآمدات پر 10 فیصد کا عارضی ٹیرف نافذ کر دیا۔

اس نئے ٹیرف نظام نے عالمی تجارت کے توازن کو متاثر کیا ہے اور ہندوستان و امریکہ دونوں کو اپنے مجوزہ تجارتی معاہدے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ معاہدہ 7 فروری کو پیش کیا گیا تھا، جس میں امریکہ نے ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد تک لانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس میں روس سے تیل خریدنے پر عائد کچھ اضافی محصولات ختم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

Published: undefined

تاہم، اب تمام ممالک پر یکساں 10 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے ہندوستان کو حاصل ہونے والا مسابقتی فائدہ کم ہو گیا ہے، جس کے باعث معاہدے کی شرائط پر نظرثانی ناگزیر دکھائی دے رہی ہے۔ حکام کے مطابق، اس بدلتے ہوئے تجارتی ماحول میں دونوں ممالک کو نئے حالات کے مطابق لچکدار حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

اس دور کی بات چیت میں ٹیرف کے علاوہ امریکی تجارتی نمائندہ کی جانب سے سیکشن 301 کے تحت شروع کی گئی دو یکطرفہ تحقیقات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ہندوستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور ان تحقیقات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

مجوزہ معاہدے کے ابتدائی خاکے میں ہندوستان نے امریکی صنعتی اور زرعی مصنوعات پر ٹیرف میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کی پیشکش کی تھی۔ ان مصنوعات میں سویابین تیل، خشک میوہ جات، پھل، شراب، اسپرٹ اور مویشیوں کا چارہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے توانائی، ہوا بازی، ٹیکنالوجی، قیمتی دھاتوں اور کوکنگ کول جیسے شعبوں میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران 500 ارب ڈالر تک درآمدات بڑھانے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے مستقبل کے لیے اہم سمت کا تعین کرے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined