
فوٹو باقر قالیباف ’ایکس‘ ہینڈل
@mb_ghalibaf
ایران اور امریکہ کے درمیان ایک طرف مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، وہیں دوسری طرف سخت بیان بازی بھی رُکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ قالیباف کی جانب سے یہ انتباہ امریکی صدر کے ذریعہ ناکہ بندی کو ’پوری طرح سے نافذ‘ رکھنے کے اعلان کے فوراً بعد آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ پر ایک گھنٹے میں 7 جھوٹے دعوے کرنے کا بھی الزام لگایا۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مقررہ راستے کا تعین صرف ایرانی حکام کی اجازت سے کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کھلا نہیں رہے گا۔
Published: undefined
یہ بیان ایران کی جانب سے جنگ بندی کے باقی ماندہ تمام تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ لبنان میں ہوئی جنگ بندی کے مطابق آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کے گزرنے کو جنگ بندی کی باقی میعاد کے لیے مکمل طور پر کھلا قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایران کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے پہلے سے اعلان کردہ مربوط راستے پر ہی نافذ ہوگا۔
Published: undefined
اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے صاف کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے تک آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ حالانکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل بہت جلد مکمل ہو جائے گا کیونکہ رکاوٹوں پر پہلے ہی بات ہو چکی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ’دوبارہ بمباری شروع کر سکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ میں اس میں توسیع نہ کروں لیکن ناکہ بندی (ایرانی بندرگاہوں پر) جاری رہے گی۔ اس لیے ناکہ بندی ہے اور بدقسمتی سے ہمیں دوبارہ بمباری شروع کرنا پڑے گی۔
Published: undefined
ٹرمپ کے بیان پر قالیباف نے جواب دیا کہ آبنائے ہرمز کھلا رہے گا یا بند اور اس پر کنٹرول کرنے والے قوانین زمینی سطح پر طے کئے جائیں گے سوشل میڈیا پر نہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے ’ایک گھنٹے میں 7 دعوے‘ کیے ہیں جن میں سبھی ’جھوٹے‘ تھے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دعوے کیا تھے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، جس سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی ہوتی ہے۔ ایران جنگ کے دوران تقریباً دو ماہ تک اس کی بندش نے کئی ممالک میں خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ اب جب کہ ایران نے اسے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا ہے، یہ واضح نہیں ہے کہ تجارتی بحری جہاز آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے لیے کتنے پُراعتماد ہوں گے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جہاز واضح حفاظتی ضمانتوں کا انتظار کررہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined