عالمی خبریں

آبنائے ہرمز کا بحران: یورپ اور جاپان کا جہازوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا اشارہ

آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے دوران یورپ اور جاپان سمیت چھ ممالک نے جہازوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ایرانی حملوں سے عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>فوٹو مرین ٹریفک ڈاٹ کام</p></div>

فوٹو مرین ٹریفک ڈاٹ کام

 
ali

آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے پس منظر میں یورپ اور جاپان سمیت چھ اہم ممالک نے اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا اشارہ دیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ اور جاپان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ممالک مل کر ایسے اقدامات کریں گے جن سے اس حساس گزرگاہ میں جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ اور معمول کے مطابق رکھا جا سکے۔

Published: undefined

مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع گیس دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچتی ہے۔ اسی لیے اس راستے کی سلامتی کو یقینی بنانا نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی ترجیح ہے۔ بیان میں یہ بھی عندیہ دیا گیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

Published: undefined

دوسری جانب ایران کی جانب سے حالیہ حملوں پر ان ممالک نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ خاص طور پر قطر اور سعودی عرب کے تیل و گیس کے تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ قطر کی توانائی کمپنی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اس کی ایل این جی برآمدات کی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی آئی ہے، جس سے بھاری مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔

Published: undefined

آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈرون اور دھماکہ خیز کشتیوں کے ذریعے ہونے والے حملوں کے بعد متعدد تجارتی جہاز اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ کئی جہاز سمندری حدود کے باہر رکے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کا اثر ہندوستان سمیت کئی ممالک کی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے، جہاں توانائی کی دستیابی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

Published: undefined

اس کشیدہ ماحول کے پیش نظر ان ممالک نے توانائی پیدا کرنے والے دیگر ملکوں کے ساتھ رابطے بڑھانے اور پیداوار میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ عالمی منڈی کو مستحکم رکھا جا سکے۔ ساتھ ہی ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانے میں تعاون کرے، کیونکہ موجودہ حالات بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined