
علامتی تصویر / اے آئی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد مغربی ایشیا کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ لبنان میں سرگرم ایران نواز تنظیم حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے رات کے وقت اسرائیل پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ تنظیم کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی حالیہ حملوں کے ردعمل اور اپنے قائد کے انتقال کے بعد کی گئی۔
Published: undefined
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے متعدد میزائل اور بڑی تعداد میں ڈرون اسرائیلی اہداف کی طرف بھیجے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے داغا گیا ایک راکٹ فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ چند دیگر غیر آباد علاقوں میں گرے۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق ایک سال سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع ہے جب حزب اللہ نے کھلے طور پر اسرائیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ لبنان کی حکومت اس سے پہلے حزب اللہ سے اپیل کر چکی تھی کہ وہ براہ راست اس تنازعہ میں شامل نہ ہو، کیونکہ اس سے ملک ایک اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
Published: undefined
لبنان ابھی تک گزشتہ حزب اللہ-اسرائیل تصادم کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں سنبھل سکا۔ وہ جھڑپیں نومبر 2024 میں امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے بعد کم ہوئی تھیں، تاہم اس کے باوجود وقفے وقفے سے کارروائیاں جاری رہیں۔
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے تازہ صورت حال پر کہا ہے کہ حکومت ملک کو کسی نئی مصیبت یا جنگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ موجودہ حالات نے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کو انتہائی حساس بنا دیا ہے اور خطے میں غیر یقینی فضا برقرار ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined