عالمی خبریں

نیپال میں تباہ کن سیلاب: اموات کی تعداد 95 تک پہنچی، ہندوستان کی مدد پر نیپالی وزیراعظم کا اظہارِ تشکر

نیپال میں تباہ کن سیلاب سے اموات کی تعداد 95 ہو گئی ہے، 300 افراد لاپتا ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ہندوستان نے 10 ٹن امدادی سامان و ادویات بھیجیں، جس پر نیپالی وزیراعظم نے شکریہ ادا کیا

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں تباہ کن سیلاب / Getty Images</p></div>

نیپال میں تباہ کن سیلاب / Getty Images

 
Anadolu

نئی دہلی: نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے اور مختلف اضلاع میں اموات کی تعداد بڑھ کر 95 تک پہنچ گئی ہے۔ نیپال پولیس کے مطابق سیلاب کے بعد 95 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی، تلاش اور بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں اور حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق رسوا میں ایک، نواکوٹ میں 11، دھادنگ میں 18، چتوان میں 33، گورکھا میں 16، تنہوں میں 5 اور نول پور میں 11 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ حکام خطرناک علاقوں میں موجود لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ لاپتا افراد کی تلاش بھی کر رہے ہیں۔

سیلاب نے نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچایا بلکہ گھروں، کھیتوں، مویشیوں اور فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نواکوٹ کی رہائشی کلپنا مل نے بتایا کہ ان کے والد، والدہ، بہن اور بہن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک مکان کی چھت پر چڑھ کر جان بچانے میں کامیاب ہوئیں۔

کلپنا کے بیٹے سگم مل نے بتایا کہ انہوں نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بچایا، تاہم ان کی بہن کا فون اب بند ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ بھی سیلاب میں بہہ گئی ہوں گی۔ ایک اور متاثرہ خاتون گوما پنڈت نے بتایا کہ ان کی بھینسیں اور دیگر مویشی سیلاب میں بہہ گئے، جبکہ ان کی زرعی زمین اور سرسوں، مکئی اور دھان کی پوری فصل بھی تباہ ہو گئی۔

دریں اثنا، نیپال ٹورزم کے مطابق رسوا ضلع میں بھوٹے کوشی دریا میں اچانک سیلاب آنے کے بعد 384 مسافروں کا سراغ نہیں مل سکا، جن میں 291 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق لاپتا غیر ملکیوں میں 105 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔ مختلف ٹورزم ایجنسیوں سے موصول ہونے والے اعداد و شمار میں فرق کے باعث صورت حال کی مزید تصدیق کی جا رہی ہے۔

سیلاب کی تباہ کاری کے پیش نظر نیپال ٹورزم بورڈ نے مسافروں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وادی کھٹمنڈو کی ٹریفک پولیس نے کھٹمنڈو سے رسوا، نواکوٹ، دھادنگ اور چتوان جانے والی گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سرکاری طور پر سڑکوں کے محفوظ ہونے کی تصدیق تک متاثرہ علاقوں کی جانب سفر نہ کریں۔

امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے نیپال فوج کے دو ہیلی کاپٹر رسوا بھیجے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ سدھن گرونگ نے عوام اور مسافروں سے متاثرہ شاہراہوں اور دریائی راستوں پر غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے آس پاس اور مگلین کی سمت زیریں علاقوں میں رہنے والے افراد اور سیاحوں کو بھی اگلی اطلاع تک انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس مشکل گھڑی میں ہندوستان نے نیپال کی مدد کے لیے 10 ٹن انسانی امدادی سامان اور ضروری ادویات بھیجی ہیں۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اس مشکل وقت میں نیپال اور اس کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ سے فون پر بات کی اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کو ہر ممکن انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستانی ٹیمیں امدادی و بچاؤ کارروائیوں میں نیپالی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔