عالمی خبریں

فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کی اسکیم میں 5 سال کی توسیع، 2031 تک جاری رکھنے کی منظوری

مرکزی کابینہ نے خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات کے فوری فیصلے کے لیے فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کی اسکیم 2031 تک بڑھا دی۔ ملک بھر میں 850 عدالتیں چلانے کا منصوبہ ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات کا جلد فیصلہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں (ایف ٹی ایس سی) کی اسکیم میں 5 سال کی توسیع کر دی ہے۔ مرکزی کابینہ نے اسکیم کو یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کی منظوری دے دی۔

اسکیم کے تحت ملک بھر میں مجموعی طور پر 850 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں چلائی جائیں گی۔ ان میں بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون، پوکسو، کے تحت مقدمات سننے والی خصوصی عدالتیں بھی شامل ہوں گی۔ فی الحال 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 779 ایف ٹی ایس سی کام کر رہی ہیں، جن میں 399 خصوصی پوکسو عدالتیں ہیں۔

حکومت زیر التوا عصمت دری اور پوکسو مقدمات کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید اضلاع کو بھی اسکیم میں شامل کرے گی۔ اس طرح عدالتوں کی دستیابی ان علاقوں تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی جہاں ان نوعیت کے مقدمات کا بوجھ زیادہ ہے۔ اسکیم کا مقصد ایسے مقدمات کی سماعت اور فیصلے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

ایف ٹی ایس سی اسکیم کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد عصمت دری اور پوکسو قانون 2012 کے تحت درج مقدمات کا تیزی سے نپٹارا یقینی بنانا تھا۔ آغاز کے بعد اس اسکیم میں دو مرتبہ توسیع کی جاچکی ہے۔ کابینہ کی تازہ منظوری کے بعد یہ پروگرام مزید پانچ برس، یعنی مارچ 2031 کے اختتام تک جاری رہے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں ملک بھر میں کام کرنے والی 775 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں، جن میں 398 خصوصی پوکسو عدالتیں شامل تھیں، نے تقریباً 66,500 مقدمات نمٹائے۔ اس کے باوجود سال کے اختتام پر لگ بھگ 2.45 لاکھ مقدمات زیر التوا تھے۔ اس سے پہلے 2024 میں ان عدالتوں نے 85,595 مقدمات، جبکہ 2023 میں 76,319 مقدمات کا فیصلہ کیا تھا۔

اسکیم کے تحت مرکزی حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو عدالتی افسران اور معاون عملے کی تنخواہوں کے علاوہ عدالتوں کے روزمرہ اخراجات کے لیے مالی مدد دیتی ہے۔

اسکیم شروع ہونے سے اب تک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مجموعی طور پر 1,259.51 کروڑ روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسکیم کی توسیع سے خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات کے زیر التوا بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ مزید عدالتوں کے قیام اور موجودہ عدالتوں کے تسلسل سے متاثرین کو بروقت انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔