عالمی خبریں

بنگلہ دیش میں موسلا دھار بارش سے تباہی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں 51 افراد ہلاک، 10 لاکھ سے زائد متاثر

بنگلہ دیش میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 51 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہو گئے۔ 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہیں، حکومت نے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں مسلسل موسلا دھار بارش کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قدرتی آفات کے باعث اب تک کم از کم 51 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ 22 ہزار 963 افراد اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے وزارتِ آفات و امداد کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اب بھی 2 لاکھ 67 ہزار 918 خاندان سیلابی پانی میں محصور ہیں، جبکہ 44 ہزار 457 افراد کو محفوظ مقامات پر قائم امدادی کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے ملک بھر میں ایک ہزار 131 امدادی کیمپ قائم کیے ہیں جہاں خوراک، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی جاری ہے۔

سب سے زیادہ تباہی کاکس بازار، چٹاگانگ، بندربن، رنگاماٹی، مولوی بازار، حبیب گنج اور کھاگڑاچھڑی اضلاع میں دیکھی گئی ہے۔ سب سے زیادہ 28 اموات کاکس بازار میں ہوئیں، جبکہ چٹاگانگ میں 13، بندربن میں 6، رنگاماٹی میں 3 اور مولوی بازار میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔

وزارتِ آفات و امداد کے مطابق سیلاب سے ملک کی 58 ذیلی انتظامی اکائیاں، 386 یونینیں اور 12 بلدیاتی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم متاثرین تک ضروری امداد پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے اتوار کو ملک کے تمام متعلقہ محکموں اور مقامی انتظامیہ کو مکمل طور پر چوکس رہنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہنگامی صورتحال میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ایک ورچوئل اجلاس کے دوران مختلف صوبائی اور ضلعی حکام نے وزیر اعظم کو اپنے اپنے علاقوں میں سیلاب، نقصانات، امدادی کیمپوں، بچاؤ کی کارروائیوں، امدادی سامان کی تقسیم اور طبی سہولتوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

وزیر اعظم نے ہدایت دی کہ متاثرہ علاقوں میں خشک راشن، صاف پینے کا پانی، بچوں کی خوراک، ضروری ادویات اور طبی خدمات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آفت کی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر چوری، ذخیرہ اندوزی، امدادی سامان میں خرد برد یا کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔