
آئی اے این ایس
واشنگٹن: ہرمز کی آبی گزرگاہ میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ نے اپنے نئے فوجی اقدام ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک محدود، عارضی اور مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا مشن ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔
Published: undefined
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا ’آپریشن ایپک فیوری‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دونوں الگ نوعیت کے اقدامات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد کسی بھی طرح کی جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ ان بے گناہ تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو ایران سے جڑے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
Published: undefined
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ عالمی تیل سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات میں شدت آئی ہے، جس میں سمندری سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔
ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ “یہ مشن ایک طے شدہ مدت اور محدود دائرہ کار میں انجام دیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچایا جائے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق بحری نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے۔” انہوں نے زور دیا کہ امریکی افواج کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ایران کے علاقائی پانیوں یا فضائی حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
Published: undefined
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن ایران کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بین الاقوامی آبی راستوں پر دیگر ممالک کے تجارتی مفادات کو متاثر کرے۔ ان کے مطابق ایران ہرمز میں مداخلت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور بعض مواقع پر ٹینکروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ دو امریکی تجارتی جہاز ایک امریکی جنگی بحری جہاز کی نگرانی میں بحفاظت اس راستے سے گزر چکے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ حالات کو قابو میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے شراکت دار ممالک، شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اس خطے میں تجارتی سرگرمیاں بحال رہیں۔
Published: undefined
ہیگسیتھ کے مطابق امریکہ نے اس علاقے میں ایک مضبوط دفاعی نظام قائم کیا ہے جس میں جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، ڈرون اور نگرانی کے طیارے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عالمی توانائی کے راستوں کو محفوظ بنانے اور مختلف ممالک کے ہزاروں ملاحوں کی زندگیوں اور روزگار کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ امریکہ اس مشن کو ’انسانیت کے تحفظ‘ کے تناظر میں دیکھتا ہے اور اس کا مقصد عالمی سطح پر استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا