
آئی اے این ایس
کابل: افغانستان میں منشیات کے خلاف جاری مہم کے تحت صوبہ سمنگان میں پولیس نے گزشتہ دو دن کے دوران تقریباً ایک ہزار ایکڑ پر پھیلی پوست کی فصل کو تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ملک میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کو روکنے کے مقصد سے چلائی جا رہی وسیع مہم کا حصہ ہے۔
Published: undefined
صوبائی پولیس کے ترجمان حشمت اللہ رحمانی نے بتایا کہ یہ کارروائی ضلع درہ صوف پائین اور اس کے آس پاس کے متعدد دیہات میں کی گئی، جہاں بڑے پیمانے پر پوست کی کاشت ہو رہی تھی۔ حکام کے مطابق پوست کی فصل سے منشیات تیار کی جاتی ہیں، اس لیے اس کی غیر قانونی کاشت کے خلاف سخت قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔
حشمت اللہ رحمانی نے واضح کیا کہ جو لوگ غیر قانونی منشیات کی پیداوار، فروخت یا اسمگلنگ میں ملوث پائے جائیں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل سرگرم ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف علاقوں میں مہم جاری رکھی جائے گی۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شمالی افغانستان کے صوبہ بغلان، تخار اور بدخشاں میں بھی سیکڑوں ایکڑ پوست کی فصل تباہ کی جا چکی ہے۔ دس مئی کو صوبہ بغلان میں تقریباً چار سو ایکڑ پر موجود نشہ آور فصلوں کو ختم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حکام نے بتایا تھا کہ مختلف اضلاع میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی فصلوں کے خلاف مہم چلائی گئی۔
منشیات کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ صرف پوست کی فصل تک محدود نہیں رہا۔ دو مئی کو صوبہ نیمروز میں 55 کلو گرام میتھامفیٹامین برآمد کی گئی تھی۔ اس سے قبل 26 اپریل کو ملک بھر میں اسی منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ ہیروئن، حشیش اور دیگر نشہ آور اشیا بھی ضبط کی گئی تھیں۔
Published: undefined
افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک میں سرگرم منشیات کے نیٹ ورک کو کمزور کرنا اور غیر قانونی کاروبار کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اسی سلسلے میں پندرہ اپریل کو صوبہ خوست میں سو کلو گرام سے زیادہ نشہ آور مادوں کو عوامی طور پر نذر آتش بھی کیا گیا تھا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ملک بھر میں منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خاتمے کے لیے کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ حکام نے خبردار کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined