
ہاکی خواتین ٹیم، تصویر، ایکس ہنڈل ’ہاکی انڈیا‘
’ویمنز ہاکی جونیئر ایشیا کپ 2026‘ میں ہندوستانی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری ہے۔ 10 ستمبر بروز جمعرات چین کے موکی میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میں ہندوستانی ٹیم نے روایتی حریف پاکستان کو 0-19 سے شکست فاش دی۔ ہندوستان کی جونیئر خاتون ٹیم کے لیے پوجا ملک نے سب سے زیادہ 3 گول (27ویں، 49ویں اور 51ویں منٹ) کیے۔ وہیں چندرکانت سانیکا مانے (13ویں اور 23ویں منٹ)، مدھو سیدار (16ویں اور 39ویں منٹ)، سپریا (40ویں اور 54ویں منٹ) اور ایند روشنی (9ویں اور 60ویں منٹ) نے 2-2 گول داغے۔ پوجا ساہو (7ویں منٹ)، دنیش تنشری کاڈو (11ویں منٹ)، سکھویر کور (13ویں منٹ)، گیتا یادو (18ویں منٹ)، تنوجا ٹوپو (25ویں منٹ)، پورنیما یادو (33ویں منٹ)، کرشنا شرما (48ویں منٹ) اور بنیما دھن (55ویں منٹ) 1-1 گول کرنے میں کامیاب رہیں۔
اس جیت کے ساتھ ہندوستانی خاتون ٹیم نے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی جہاں اس کا مقابلہ ملیشیا اور کوریا کے درمیان ہونے والے چوتھے کوارٹر فائنل کے فاتح سے ہوگا۔ پاکستان کے خلاف مقابلے میں ہندوستانی کھلاڑی پوری طرح غالب نظر آئے۔ ابتدائی 2 کوارٹرس میں ہندوستان نے 10 گول داغ دیے تھے، جہاں سے پاکستان ٹیم پچھڑتی ہی چلی گئی۔ تیسرے کوارٹر میں پاکستان کو تھوڑی راحت ملی، جب ہندوستان نے صرف 3 گول کیے، لیکن آخری کوارٹر ہندوستان کے لیے پھر زوردار رہا کیونکہ اس میں 6 گول داغے گئے۔ مجموعی طور سے 7 گول پینالٹی کارنر سے آئے، جبکہ 2 گول پینالٹی اسٹروک پر ہوئے، اور باقی کے 11 گول جو ہندوستان نے کیے، وہ فیلڈ گول رہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور چین نے ایلیٹ پول اسٹیج کا اختتام 10-10 نمبروں کے ساتھ کیا۔ حالانکہ بہتر گول کے فرق کی وجہ سے ہندوستان ایلیٹ پول میں سرفہرست رہا۔ ہندوستان نے جاپان، کوریا اور ملیشیا کے خلاف میچ جیتے، جبکہ چین سے ڈرا کھیلا۔ پاکستانی ٹیم کی بات کریں تو اس نے چیلنجر پول میں 4 میچ کھیل کر 7 نمبر حاصل کیے تھے اور تیسرا مقام حاصل کیا تھا۔ چیلنجر پول میں بنگلہ دیش پہلے اور قزاقستان دوسرے نمبر پر رہا۔ یہ ویمنز ہاکی جونیئر ایشیا کپ کا 10 واں ایڈیشن ہے۔ ہندوستانی ٹیم دفاعی چیمپئن ہے۔ 2024 میں مسقط میں منعقدہ مقابلے میں ہندوستان نے چین کو ہرا کر مسلسل دوسری بار جیت حاصل کی تھی۔ ساؤتھ کوریا اس ٹورنامنٹ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے۔ اس نے 4 بار (1992،1996، 2000 اور 2008) خطاب جیتا ہے۔ چین نے 3 بار (2004، 2012، 2015) یہ خطاب اپنے نام کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔