صحت

بائی پولر ڈِس آرڈر: بیماری جسے بہت زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے... سنیتا پانڈے

اس بیماری میں مبتلا شخص کئی کئی دنوں تک دو پولز (قطب) کے درمیان کی صورت حال میں رہتا ہے۔ کبھی وہ بہت زیادہ اداس نظر آ سکتا ہے اور کبھی بہت زیادہ خوش۔ ایسے شخص کے ہر ایک رویہ میں انتہا نظر آتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

بر صغیر میں کسی بھی شخص کے رویہ کو کسی لقب سے جوڑنے کا چلن بڑا پرانا ہے۔ کسی بھی شخص کو غصیل، پاگل، سست، تھکیلا/تھکیلی، موڈی وغیرہ القاب سے نواز دیا جاتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ کسی شخص کے رویہ کے پیچھے کیا وجوہات ہیں یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔

Published: undefined

یاد رکھیے کہ ایک ہی شخص میں کچھ وقفہ کے بعد اگر اس طرح کی ایک سے زیادہ خصوصیت نظر آتی ہیں تو وہ بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس بیماری میں مبتلا شخص کئی کئی دنوں تک دو پولز (قطب) کے درمیان کی صورت حال میں رہتا ہے۔ کبھی وہ بہت زیادہ اداس نظر آ سکتا ہے اور کبھی بہت زیادہ خوش۔ ایسے شخص کے ہر ایک رویہ میں انتہا نظر آتی ہے۔

Published: undefined

علامات

مینک فیز میں شخص کئی کئی دنوں تک خوش رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ صورت حال مہینوں تک قائم رہتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو خوبصورت نظر آنے لگتا ہے۔ خوبصورت نظر آنے کے لئے بہت زیادہ میک اپ کرنا، ورزش کے لئے جم جانا، غذا کو لے کر محتاط ہو جانا اور ہر ایک سے یہ سوال کرنا کہ میں کیسا نظر آ رہا ہوں یا آ رہی ہوں! بھی اس بیماری کی علامات ہیں۔

Published: undefined

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں مبتلا شخص کئی کئی افیئر میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ کئی کئی اس لئے چونکہ اسے کسی پارٹنر کے چھوڑ کر چلے جانے کا احساس جرم نہیں ہوتا اور اسے کسی بھی حالت میں کوئی نیا رشتہ بنانا ہی ہوتا ہے۔ ضد میں آ کر ایسا شخص بہت زیادہ فلرٹ کرنے لگتا ہے اور کئی طرح کے افیئر میں جانے اور ان سے باہر آنے کا اسے کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

Published: undefined

وہ بلا وجہ اپنی خوشی میں دوسروں پر یا خود پر روپے لٹانے لگتا ہے اور دوسروں کی بہتر زیادہ مہمان نوازی کرنے لگتا ہے۔ بلا وجہ ہنسنے لگتا ہے، ناچنے لگتا ہے۔ کئی مرتبہ یہ صورت حال مہینوں تک برقرار رہتی ہے۔

Published: undefined

اس ڈس آرڈر کی دوسری صورت حال (ڈیپریسیو فیز) میں وہی شخص اداس رہنا شروع ہو جاتا ہے۔ کسی کام میں اس کا دل نہیں لگتا۔ وہ کسی سے ہنسنا بولنا بند کر دیتا ہے۔ خاموش بیٹھے یا سوتے رہتا ہے۔ صاف صفائی کا بھی دھیان نہیں رکھتا۔ بلا وجہ رونے لگتا ہے۔ کھانا پینا تک چھوڑ دیتا ہے۔ خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔ کئی مرتبہ ایسی حالت میں خود کشی کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ یہ حالت کئی کئی دن یا کئی مہینے تک چلتی ہے اور کبھی کبھی تو برسوں بھی چل سکتی ہے۔

Published: undefined

ان دونوں مراحل کے درمیان ایک غصہ والا مرحلہ بھی آتا ہے جب ایک شخص بلا وجہ دوسروں پر بہت زیادہ غصہ کرنے لگتا ہے۔ انہیں جسمانی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ چیزیں اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔ اس کا اپنے غصے پر قابو نہیں رہ پاتا۔ وہ کسی بھی کام کے لئے کسی کی بھی نہیں سن پاتا۔ دوسروں پر خرچ کیے گئے پیسے یا تحفے وہ واپس مانگنے لگتا ہے۔ حالانکہ جب غصہ ختم ہوتا ہے تو اسے اپنے رویہ پر ملال ہوتا ہے۔

Published: undefined

جب ایک ہی شخص ان تینوں مراحل سے گزرے تو یہ ممکن ہے کہ وہ بائی پولر ڈس آرڈر نامی بیماری کی زد میں ہے۔

Published: undefined

کسی بھی ایسے شخص کو غصے یا نفرت یا صرف ہمدردی کی نہیں بلکہ ڈاکٹری علاج کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا کوئی شخص اپنوں کی محبت کے ساتھ ادویات اور فروفیشنل کاؤنسلنگ سے کافی حد تک نارمل بھی ہو سکتا ہے۔ ایک بات اور کہ موڈ ڈس آرڈر کریٹیو (تخلیقی) لوگوں میں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

Published: undefined

اگر آپ کو اپنے ارد گرد یا خود میں کوئی ایسا شخص نظر آئے اور آپ اس کے سچے خیر خواہ ہیں تو اس سے ہمدرددی رکھ کر اسے ڈاکٹر یا پھر کاؤنسلر کے پاس جانے کو ضرور کہیں۔

(مضمون نگار سنیتا پانڈے کاؤنسلر اور سائیکو تھیرپسٹ ہیں اور جے پور سے وابستہ ہیں)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined