صحت

امول نے بازار میں پیش کیا ’اونٹنی‘ کا دودھ

اونٹ کا دودھ ذیابطیس کی بیماری کے علاوہ کئی طرح کی غذائیت اور بیماریوں میں مفید ہونے کی خصوصیت سے بھرپور یہ دودھ احمد آباد، کچھ اور گاندھی دھام میں کل سے نصف لیٹر کی بوتل میں دستیاب ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

آنند: امول برانڈ کی مصنوعات پر مالکانہ حقوق رکھنے والے گجرات کی کوآپریٹیو مِلک مارکٹنگ فیڈریشن پہلی بار اونٹنی کے دودھ  کو فروخت کرنے تحت کل سے ریاست کے تین مقامات پر بازار میں اتارنے والی ہے۔

فیڈریشن کے جنرل منیجر آر ایس سوڈھی نے آج یو این آئی کو بتایا کہ ذیا بطیس کی بیماری میں فائدہ مند ہونے کے علاوہ کئی طرح کی غذائیت اور بیماریوں میں مفید ہونے کی خصوصیت سے بھرپور یہ دودھ احمد آباد، کچھ اور گاندھی دھام میں کل سے نصف لیٹر کی بوتل میں دستیاب ہوگا۔ اس کی قیمت پچاس روپے ہوگی۔ یہ دودھ جلد ہضم ہونے کے ساتھ ساتھ دودھ سے ہونے والی الرجی سے متاثرہ لوگوں کے لئے بھی فائدہ مند ہوگا۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کے تحت آنے والی کچھ کی سرحد ڈیری نے شروعات میں چار سے پانچ ہزار لیٹر اونٹنی کا ددودھ یومیہ جمع کرنا شروع کیا ہے۔ یہ مقدار بڑھنے پر اسے دیگر مقامات پر بھی لانچ کیا جائے گا۔ گزشتہ برس ہی اونٹنی کے دودھ کی چاکلیٹ لانچ کی گئی تھی جسے لوگوں نے خوب پسند کیا ہے۔ امول کے اونٹنی کے دودھ کو ریفریجریٹر میں تین دن تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined